اینٹی بائیوٹک ادویات کے بے جا استعمال سے پاکستان میں لاکھوں اموات کا خدشہ

February 23, 2026 · ہیلتھ

 

وفاقی محکمہ صحت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو اس وقت ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے جراثیم (pathogens) سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر اینٹی بائیوٹک ادویات کے غلط استعمال اور انفیکشن کنٹرول میں ناکامی پر قابو نہ پایا گیا، تو اگلے 25 سال میں ادویات سے نہ مرنے والے جراثیم کی وجہ سے ملک میں 2 لاکھ 62 ہزار سے زائد اموات ہو سکتی ہیں۔

 

پاکستان، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مشرقی بحیرہ روم کے خطے کا وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس نے اپنی قومی ترجیحی پیتھوجین لسٹ مرتب کی ہے۔ اس دستاویز کا مقصد ہسپتالوں، لیبارٹریوں اور پالیسی سازوں کی رہنمائی کرنا ہے تاکہ انفیکشن کی روک تھام اور اینٹی بائیوٹک کے درست استعمال پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔

 

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) اسلام آبادنے بتایا ہےکہ اس فہرست کے مطابق ایسے کئی بیکٹیریاز کوانتہائی خطرناک زمرے میں رکھا گیا ہے جوخون کے جان لیوا انفیکشن، نمونیا اور پیشاب کی نالی کے پیچیدہ انفیکشن کا باعث بنتے ہیں۔

 

ادویات کے خلاف مزاحمت میں تپِ دق (TB) بھی فہرست کا حصہ ہے، جو پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے کیونکہ اس کا علاج طویل اور انتہائی مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔

 

اس حوالے سے تیارکی گئی ترجیحی درجہ بندی کے مطابق ،اعلیٰ ترجیح میں ٹائیفائیڈ ، ہیضہ، اسہال اور جنسی طور پر قابل انتقال انفیکشن پیدا کرنے والے جراثیم ،درمیانی ترجیح میں نمونیا اور گردن توڑ بخار کا باعث بننے والے جراثیم رکھے گئے ہیں۔فہرست میں کینڈیڈا اور میوکرالس جیسے فنگس کو بھی شامل کیا گیا ہے جو کمزور قوتِ مدافعت اور شوگر کے مریضوں کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔

 

فارماسیوٹیکل صنعت کے اعداد و شمار کے مطابق، مارچ 2025 کو ختم ہونے والے سال میں پاکستان کی دواسازی مارکیٹ 10 کھرب 49 ارب روپے سے تجاوز کر گئی، جس میں سے تقریباً 185 ارب روپے صرف اینٹی بائیوٹک ادویات کے ہیں۔

 

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سی اینٹی بائیوٹک ادویات بغیر کسی مستند تشخیص یا نسخے کے فروخت کی جا رہی ہیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں 126 ارب روپے کی اینٹی بائیوٹکس استعمال ہوئیں، جن میں سے ایک بڑا حصہ بغیر ڈاکٹر کے نسخے کے حاصل کیا گیا تھا۔

 

ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر موجودہ اینٹی بائیوٹکس کی افادیت ختم ہو گئی تو سرجری، زچگی اور کینسر جیسے معمول کے علاج بھی انتہائی پرخطر ہو جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نئی فہرست کی مدد سے لیبارٹریوں کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا اور نیشنل ایکشن پلان 2024-2029 کے تحت اینٹی بائیوٹکس کی فروخت پر سخت کنٹرول اور ڈاکٹروں کے نسخے سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔