غزہ کوصرف حماس چلاسکتی ہے اوروہی چلائے گی۔ اسرائیل کویقین
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے بعد کے غزہ کے لیے اپنے وژن پر پوری قوت سے کام کر رہے ہیں، جس میں حماس کی حکمرانی نہ ہو۔ لیکن دی ٹائمز آف اسرائیل(The Times of Israel) کی جانب سے دیکھے گئے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ حماس کس طرح مؤثر طریقے سے ان کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
دیکھی گئی دستاویزات کے مطابق، یہ گروپ ایک’’شیڈو گورنمنٹ‘‘(خفیہ حکومت) کوتشکیل دے ےرہا ہے، اور اپنے عسکری کمانڈروں کو سول عہدوں پر تعینات کرنے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ جیسے ہی فلسطینی اتھارٹی سے منسلک ٹیکنو کریٹک قیادت غزہ میں اپنی سرگرمیاں شروع کرے، وہ وہاں موجود ہوں۔
گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے اجلاس میں ٹرمپ نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے تقریباً 7 بلین ڈالر کے وعدے حاصل کیے، اور پانچ ممالک نے بین الاقوامی استحکام فورس (International Stabilization Force) میں فوج بھیجنے کا عہد کیا ہے، جس کا مقصد علاقے میں اسرائیلی فوجیوں کی جگہ لینا ہے۔جنگ زدہ علاقے کے قریب بھی کچھ پیش رفت کے آثار نظر آ رہے ہیں۔
نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG)، جس کا مقصد غزہ کے روزمرہ کے سول معاملات کو سنبھالنا ہے، اب کام کر رہی ہے، اگرچہ یہ فی الحال صرف قاہرہ سے کام کر رہی ہے اور غزہ میں داخلے کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی ۔ یہ کمیٹی ایک عبوری پولیس فورس کے لیے بھی امیدواروں کی بھرتی کر رہی ہے جو غزہ کی شہری قانون نافذ کرنے والی ایجنسی کے طور پر کام کرے گی۔
ٹرمپ نے بورڈ آف پیس سے اپنے خطاب میں کہاتھاکہ جب آپ اسرائیل کے بارے میں سوچتے ہیں، تو ہم نے سب سے بڑا کام کر دیا ہے۔ اب مشرقِ وسطیٰ میں امن ہے،لیکن بین الاقوامی کوششوں اور خوش آئند بیانات کے باوجود، حماس کی داخلی دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ حماس کا عملی طور پر غزہ پر کنٹرول چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ، چاہے وہ نام کی حد تک ایسا کر بھی دے۔
غزہ جنگ بندی کو چار ماہ گزرنے کے بعد بھی اسرائیل کا اب بھی پٹی کے نصف سے زیادہ حصے پر قبضہ ہے، لیکن انکلیو کے تقریباً تمام 20 لاکھ باشندے ان علاقوں میں ہیں جو اب تک حماس کے زیرِ قبضہ ہیں۔ جنگ ختم کرنے کے معاہدے کے تحت حماس کو غزہ کا روزمرہ کا انتظام NCAG کے حوالے کرنا ہے۔ یہ 15 رکنی ٹیکنو کریٹ کمیٹی سابق فلسطینی اتھارٹی کے نائب وزیر علی شعث کی سربراہی میں ہے، جو سفارت کار نکولے ملاڈینوف کی زیرِ نگرانی کام کریں گے۔
ہتھیار ڈالنے سے انکار کرتے ہوئے حماس نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ غزہ کا سول کنٹرول چھوڑنے کے حوالے سے تعاون کر رہی ہے تاکہ ثالث ممالک کو خوش رکھا جا سکے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے گزشتہ ہفتے میڈیاکو بتایا کہ تمام شعبوں میں ٹیکنو کریٹک کمیٹی کو حکمرانی کی مکمل منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے فائلیں مکمل ہیں اور کمیٹیاں موجود ہیں۔تاہم دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، مئی میں اسرائیلی حملے میں محمد سنوار کی ہلاکت کے بعد ان کی جگہ لینے والے عزالدین الحداد نے حماس کے ارکان کو حکم دیا ہے کہ نئی حکومت کو دی جانے والی کسی بھی فائل کی کاپی اپنے پاس محفوظ رکھیں۔ اس سے گروپ کو سرکاری ملازمین کا ریکارڈ برقرار رکھنے میں مدد ملے گی جنہیں ضرورت پڑنے پر دھمکایا یا دباؤ میں لایا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ حماس اپنے ارکان کو اہم عہدوں پر برقرار رکھ کر غزہ میں ابھرتی ہوئی صورتحال کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔ فوج نے جنوری کے آخر میں وزیراعظم نیتن یاہو کو پیش کی گئی ایک دستاویز میں کہا کہ حماس سرکاری دفاتر، سکیورٹی اداروں اور مقامی حکام میں اپنے حامیوں کو شامل کر کے نچلی سطح سے اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے اقدامات کر رہی ہے۔
دستاویزات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈکے کمانڈروں کو سول عہدوں پر منتقل کرنے کی تحریری ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ وہ نئی ٹیکنو کریٹک حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔ دو فلسطینی ذرائع نے روئٹرزکو بتایا کہ گروپ نے پانچ اضلاع کے گورنر نامزد کیے ہیں جن کے تعلقات القسام بریگیڈ سے ہیں۔ انہوں نے غزہ کی وزارتِ معیشت اور داخلہ میں بھی سینئر حکام کو تبدیل کر دیا ہے جو ٹیکس اور سکیورٹی کے معاملات دیکھتے ہیں۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ علی شعث کے پاس گاڑی کی چابی ہو سکتی ہے اور انہیں گاڑی چلانے کی اجازت بھی مل سکتی ہے، لیکن یہ گاڑی حماس کی ہوگی۔ حماس کا داخلی انٹیلی جنس نظام بھی برقرار نظر آتا ہے، جہاں کمانڈروں کو ہسپتالوں سمیت مختلف مقامات پر نگرانی بڑھانے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع مقامی کمانڈروں کو دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نےاے ایف پی سے گفتگو میں غزہ میں بین الاقوامی امن دستوں کے لیے فلسطینی گروپ کی آمادگی ظاہر کی لیکن انہوں نے علاقے کے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت کو مسترد کر دیا۔ قاسم نے بتایاکہ بین الاقوامی افواج کے بارے میں ہمارا مؤقف واضح ہے۔ ہم وہ امن افواج چاہتے ہیں جو جنگ بندی کی نگرانی کریں، اس کے نفاذ کو یقینی بنائیں اور غزہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کیے بغیر پٹی میں قابض فوج اور ہمارے لوگوں کے درمیان بفر کے طور پر کام کریں۔
ادھر، حماس اپنے نئے سربراہ کے انتخاب کے لیے حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ جس میں دو نمایاں شخصیات میں سے کسی ایک کا انتخاب ممکن ہوجائے گا۔حماس نے حال ہی میں اپنی نئی شوری کونسل کی تشکیل کی ہے۔ یہ فورم ایک مشاورتی کردار کا حامل فورم ہے۔ اس میں حماس کے سینیئر لوگوں کے علاوہ پولیٹیکل بیورو کے ارکان اور سینیئر دینی علماء بھی شامل ہوتے ہیں۔ ایک سینیئر ذمہ دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا حماس نے تین علاقوں میں اپنی نئی قیادت کا انتخابی عمل مکمل کر لیا ہے۔ اب بہت جلد حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کا انتخاب عمل میں لایا جا سکے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ زیادہ امکان یہی ہے کہ سینیئر رہنماؤں خالد مشعل اور خلیل الحیہ میں سے کسی ایک کو منتخب کر لیا جائے گا۔تنظیم کے ایک اور ذریعے نے بھی اس انتخابی پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔تاہم،ایک اور حماس ذریعے کا کہنا ہے کہ نئی قیادت صرف ایک سال کے لیے کام کرے گی اور اسے عبوری دور سمجھا جائے گا۔
حماس کی شوری کونسل کے ارکان کا انتخاب 4 سال کے لیے کیا جاتا ہے جس میں جماعت کی تین بڑی شاخوں میں سے رہنما چنے جاتے ہیں۔ ان تین علاقوں میں غزہ کی پٹی، مغربی کنارا اور بیرون ملک موجود حماس کے لوگ ہوتے ہیں۔
65 سالہ خلیل الحیہ غزہ کے رہنے والے ہیں اور وہ 2006 سے حماس کی طرف سے مذاکراتی عمل میں شریک رہے ہیں۔ آج کل وہی حماس کی قیادت پر فائز ہیں۔
خالد مشعل 2004 سے 2017 تک سیاسی بیورو کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ ان کا تعلق مغربی کنارے سے ہے جہاں وہ 1956 میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا زیادہ تر وقت جلا وطنی میں گزرا ہے اور اسرائیل ان دونوں رہنماؤں کو اپنے قاتلانہ حملوں اور سازشوں کا نشانہ بنا چکا ہے مگر ناکام رہا ہے۔