ڈھاکہ الیکشن : بنگلہ دیش کا عوامی انقلاب

حکیم سید محمود احمد سہارن پوری
بنگلہ دیش میں انتقال اقتدار کی تکمیل کے بعد 12 مارچ 2026 کو قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔ گو ابتدائی اجلاس تعارف تک محدود رہے گا، امید ہے کہ اسی اجلاس میں ”آزاد بنگلہ دیش کی آزاد خارجہ پالیسی” کے عزم کا اعلان بھی ہوگا جس میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف مل کر قومی سلامتی اور ملک کو بیرونی اثرات سے محفوظ رکھنے کے عہد کا چراغ روشن کریں گے۔
ماہ صیا م سے دو روز قبل الیکشن میں دو دھائی اکثریت حاصل کرنے والے اتحاد کے سربراہ طارق رحمن (بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی )نے وزارت عظمی کا حلف اٹھایا۔ اس بڑے اور اہم ایونٹ میں مختلف ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کے ساتھ حکومتی زعما بھی شریک ہوئے۔ وزیراعظم میاں شہبازشریف ویانا (آسٹریلیا )میں موسیماتی تبدیلی سے جڑے عالمی ایونٹ میں شریک تھے ان کی جگہ وژن 2030 اور اقتصادی منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر پروفیسر چوہدری احسن اقبال بنگلہ دیش کے مہمان بنے۔
دوروزہ قیام کے دوران چوہدری احسن اقبال سے حکومتی اور سیاسی حلقوں نے جس محبت اور جس عقیدت کا اظہار کیا اس کا اظہار الفاظ میں مشکل ہے۔ چوہدری احسن اقبال کی ڈھاکہ میں قومی شاہراہ سے گزرتے ہوئے وائر ل ویڈیو نے پاکستان اور بنگلہ دیش کی محبتوں کو انمول کر دیا۔ راہ چلتے بنگالی گاڑی پر پاکستانی پرچم کو دیکھ کر محبت بھرے جذبات کا اظہار کرتے’،سلام کرتے اور مہمان شخصیت کو سیلوٹ کرتے نظر آئے!! یہ وہ محبتیں تھیں جن کو بھارت نے اپنی ”حسینہ”کے ذریعے اختلاف کی دیواروں سے ایک دوسرے کو دور کیا۔
بھارت نوازوزیراعظم حسینہ واجد لمبے عرصے تک فرضی اور جعلی انتخابی عمل سے اپوزیشن کو دیوار سے لگاتی رہی، یہی نہیں جماعت اسلامی اور اس کی قیادت کو پاکستان سے محبت کے ”جرم”میں پھانسی کے دار تک چڑھا جاتا رہا ۔پھر آسمان نے وہ منظر بھی دیکھا جب پانچ دھائی قبل بنگلہ دیش کے عوام نے جس قہر اور غضب سے شیخ مجیب الرحمان کو نشان عبرت بنایا اسی غضب اور انتقام سے شیخ مجیب کی منہ زور اور مغرور بیٹی سے بدلہ لیا۔ قریب تھا کہ عوام کا دھاڑے مارتا سمندر حسینہ واجد کو بہا کر لے جاتا کہ وہ” اپنوں ”کے پاس بھارت فرار ہوگئیں۔
5 اگست 2014 کے بعد سے 12 فروری 2026 کے دوران بنگلہ دیش کلی طور پر بھارت، اس کی مداخلت اور اس کے مہیب اثرات سے محفوظ رہا اور آزادانہ ماحول میں بنگلہ دیش کے عوام نے طارق رحمن کی جماعت کو اقتدار کے لیے چنا۔حلف برادری اور انتقال اقتدار کے بعد نئی حکومت کے سربراہ نے سادگی اور کفایت شعاری کی جو مثال قائم کی ہے اس کی ضرورت تیسری دنیا کے ہر ملک کو ہے۔ اللہ کرے پاکستان اور بنگلہ دیش میں محبتیں،قربتیں اور دوستی کا سلسلہ پھر سے چل پڑے!! یہی دوستی اور تعلقات بھارت سے بدلہ لینے کا سب سے بڑا ثبوت کہلائیں گے… یادش بخیر !!پا نچ اگست 2024کو بڑی احتجاجی تحریک کے بعد حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس تحریک میں اہم کردار بنگلہ دیشی طلبا نے کیا۔
حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے کے بعدنہ صرف بنگلہ دیش کو حقیقی آزادی ملی بلکہ وہاں ایک نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم ہوئی اور انہی کی نگرانی میں اور 2026 میںبنگلہ دیش میں انتخابات منعقد ہوئے جس کے نتیجے میں خالدہ ضیاکے بیٹے طارق رحمان نے اکثریت لی ۔ طارق رحمان، ضیا خاندان کی سیاسی وراثت میں اہم شخصیت ہیں۔ ان کی والدہ نے دو مرتبہ وزیراعظم بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ آخری بار وہ 2001 سے 2006تک اقتدار میں رہیں۔ ان کے والد ضیاالرحمان فوج سے سیاست میں آئے اور بنگلہ دیش کے چھٹے صدر بنے، انہیں1981میں قتل کر دیا گیا تھا۔
60 سالہ طارق رحمان نے اس سیاسی خانوادے سے تعلق کی بنیاد پر جیل کی صوبتیں بھی برداشت کیں اور حکومتی عہدے بھی حاصل کئے۔وہ 2007 میں حسینہ واجد کے دور میں کرپشن الزامات پر گرفتار ہوئے اور تقریبا 18 ماہ جیل میں گزارے۔بعد ازاں 2008 میں رہائی کے بعد وہ لندن منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے تقریبا 17 سال جلاوطنی میں گزارے۔اگست 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سیاسی حالات تبدیل ہوئے اور طارق رحمان دسمبر 2025 میں ڈھاکا واپس آئے ،والدہ خالدہ ضیا کی وفات کے بعد جنوری 2026 میں انہیں باضابطہ طور پر بی این پی کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا۔
بنگلہ دیش کی نئی حکومت چین کے قریب ہوتی ہے توچین پاکستان اقتصادی راہداری کو خطے میں حمایت مل سکتی ہے اور پاکستان، بنگلہ دیش اور چین کے درمیان اقتصادی اور دفاعی تعاون بڑھ سکتا ہے۔ حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش کا جھکا پاکستان کی جانب نمایاں نظر آرہا ہے۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں پہل کی جنہیں بھارت اور اسکی کٹھ پتلی حسینہ واجد کی حکومت نے عروج پر پہنچایا ہوا تھا ڈاکٹر یونس نے آتے ہی پاکستان کے اہم رہنماں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا اور پاک بنگلہ دیش تعلقات کو نئے عزم کے ساتھ مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا اور عوامی سطح پر تعلقات کو فروغ دینے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کا عہد کیا جس پر وہ کاربند بھی رہے۔
بنگلہ دیش کی نئی حکومت کا جھکائوجس سمت ہو گا، اسی تناظر میں پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری یا کشیدگی آ ئے گی یہ کہنا قبل از وقت ہے۔عالمی سیاست کے تناظر میں بنگلہ دیش کو بھارتی ریشہ دوانیوں کا مسلسل سامنا رہے گا کیونکہ بھارت کبھی نہیں چاہے گا کہ بنگلہ دیش اسکے مقابلے میں ایک مضبوط ملک بن کر ابھرے اور اسے آنکھیں دکھائے۔ وہ پاکستان کی طرح بنگلہ دیش کے ساتھ بھی اپنی پراکسیز جاری رکھ سکتا ہے۔ اس لئے بھارتی سازشوں سے بچنے اور اپنی سلامتی برقرار کھنے کیلئے بنگلہ دیش کو پاکستان جیسے مخلص دوستوں کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنا ہوگا۔ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے بنگلہ دیش کو اسلامی دنیا کے ساتھ بھی روابط بڑھانا ہونگے۔ادھر نئے سیاسی منظرنامے میں پاکستان کیلئے سفارتی تعلقات مزید بہتر بنانے کا موقع پیدا ہو سکتا ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کو اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔دیکھنا یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم طارق رحمان پاکستان کے ساتھ اپنی کیا سیاسی اسٹرٹیجک اپناتے ہیں۔