تہران سے امریکہ تک حملے کی صلاحیت۔ایران کواکسانے کی حکمت عملی کیاہے؟
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہاہے کہ ایران کے پاس ایسے روایتی ہتھیار موجود ہیں جو امریکہ پر حملے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کو اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کے بارے میں مذاکرات کرنا ہوں گے۔ یہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایسے بین البراعظمی میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جنیوا میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے نئے دور سے ایک روز پہلے روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیلسٹک میزائلوں پر بات نہ کرنے کا ایرانی اصرار ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔تاہم، روبیو نے اس بات کی وضاحت سے گریز کیا کہ آیا جنیوا مذاکرات امریکہ کے لیے ایران پر حملہ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے کے حوالے سے کوئی اہم موڑ ثابت ہوں گے یا نہیں۔کیریبین کے چھوٹے ملک سینٹ کٹس اینڈ نیوس کے دورے پرامریکی وزیرخارجہ روبیو نے زور دے کر کہا کہ صدر سفارتی حل چاہتے ہیں۔ وہ اسے ترجیح دیتے ہیں، بلکہ بہت زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنیوا مذاکرات بارآورثابت ہوں گے، تاہم انہوں نے مزید کہا کہ لیکن ہمیں صرف ایٹمی پروگرام سے بڑھ کر دیگر مسائل پر بھی بات کرنا ہوگی۔ایران پر ممکنہ حملے کے حوالے سے روبیو نے کہا کہ صدر نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ، اس لیے میں نہیں جانتا کہ جمعرات کا دن اس حوالے سے کوئی کلیدی وقت ہے یا نہیں۔ میرا خیال ہے کہ پیش رفت ہونی چاہیے۔
امریکہ نے تہران سے واشنگٹن یا دوسرے امریکی شہروں پر حملے کی صلاحیت کے پیش نظر نئی حکمت عملی تیارکی ہے جس کے مطابق ، ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مشیر اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ اسرائیل ایران پر حملے میں پہل کرے۔
امریکی انتظامیہ کے حکام کا خیال ہے کہ اسرائیلی حملہ ایران کو جوابی کارروائی پر اکسائے گا، جس سے جوابی امریکی حملے کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ یا اس کے علاقائی اتحادیوں پر پہلے حملہ ہوا تو امریکی عوام تہران کے خلاف جنگ کو زیادہ آسانی سے قبول کر لیں گے۔
واشنگٹن میں فیصلہ سازی کے مراکز سے وابستہ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ انتظامیہ میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ اگر اسرائیلی تنہا پہل کریں اور ایران امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے، تو امریکہ کے پاس کارروائی کا زیادہ ٹھوس جواز ہوگا۔تاہم،اس خواہش کے باوجود کہ اسرائیل پہل کرے، ذرائع کا کہنا ہے کہ زیادہ ممکنہ منظرنامہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی ہو سکتا ہے۔