صدر زرداری نے افغان طالبان کو مجرم گروہ قرار دیدیا، وزیر دفاع کی کھلی جنگ کی دھمکی
طالبان کی جانب سے اشتعال انگیزی کے بعد صدر آصف زرداری نے افغان طالبان حکومت کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ملک نے سفارتی ذرائع کے استعمال اور دوست ممالک کی معاونت سے اس ’مجرم گروہ‘ کو ’راہِ استدلال‘ پر لانے کی سنجیدہ کوشش کی مگر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہو سکی۔
ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر آصف زرداری نے الزام عائد کیا کہ پچھلے پانچ برسوں سے افغان طالبان کی حکومت پاکستان کے خلاف کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ذریعے ’دہشتگردی کی کارروائیوں میں مصروف ہے۔‘
صدر نے خبردار کیا کہ اگر خونریزی کا سلسلہ جاری رہا تو کوئی بھی ذمہ دار عناصر ان کے ملک کی رسائی سے باہر نہیں ہوگا۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے‘ اور اب ’کھلی جنگ‘ ہوگی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں انھوں نے افغان طالبان پر ’ساری دنیا کے دہشتگردوں کو افغانستان میں اکٹھا‘ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کابل کی عبوری حکومت نے ’دہشتگردی کو ایکسپورٹ‘ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان نے ’اپنے عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا اور خواتین کو جو حقوق اسلام دیتا ہے وہ بھی چھین لیے۔‘
خواجہ آصف نے لکھا، ”نیٹو کی افواج کے انخلاء کے بعد یہ توقع کی جاتی تھی کہ افغانستان میں امن ھو گا اور طالبان افغانُ عوام کے مفادات اور علاقہ میں امن پہ توجہ مرکوز کریںُ گے۔مگر طالبان نے افغانستان کو ھندوستان کی کالونی بنا دیا۔ ساری دنیا کے دھشت گردوں کا افغانستان میں اکٹھا کر لیا اور دھشت گردی کو ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیا۔ اپنی عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا ۔ خواتین کو جو حقوق اسلام دیتا ھے وہ چھین لیے۔
”پاکستان نے براہ راست اور دوست ممالک کے ذریعہ حالات نارمل رکھنے کی پوری کوششیں کیں۔ بھر پور سفارت کاری کی۔ مگر طالبان ھندوستان کی پراکسی بن گئے آج جب پاکستانُ کو جارحیت کا نشانہ بنانے کی کوشش کی الحمدوللہ ھماری افواج اسوقت فیصلہ کن جواب دے رہی ھیں۔ ماضی میں پاکستان کا کردار مثبت رہا ھے۔ 50لاکھ افغانیوں کی 50سال سےمہمان نوازی کی۔ آج بھی ھماری سر زمین پہ افغان لاکھوں کی تعداد روزی کما رہے ھیں۔ ھمارا صبر کا پیمانہ لبریز ھو چکا۔ اب ھماری تمھاری کھلی جنگ۔ اب دما دم مست قلندر ھو گا۔ پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی ھوئی۔ ھم تمہارے ھمسائے ھیں تمہاری اوقات جانتے ھیں۔ اللہ اکبر“
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ان کی طرف سے ملک کے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور ہر ’جارحیت کا منہ توڑ جواب‘ دیا جائے گا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کے دفتر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان نے ہمیشہ امن کو فروغ دیا ہے تاہم ملکی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی اور پاکستان کی فوج ہر جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔‘
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سرحدی جھڑپیں جاری ہیں۔
اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوجی کسی بھی اندرونی اور بیرونی چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔