طالبان ترجمان نے دوبارہ حملے شروع کرنے کا اعلان واپس لے لیا
افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی فوج کے خلاف مبینہ کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے سے متعلق اپنا بیان واپس لے لیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کی گئی ان کی پوسٹ بعد میں حذف کر دی گئی۔
جمعے کی صبح جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کابل، قندھار اور دیگر صوبوں میں پاکستانی فضائی حملوں کے بعد طالبان فورسز نے پاکستانی فوجی چوکیوں کے خلاف “جوابی کارروائیاں” شروع کر دی ہیں۔ پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ کارروائیاں خصوصاً قندھار اور ہلمند کی سمت سے کی جا رہی ہیں۔
تاہم کچھ دیر بعد مذکورہ بیان سوشل میڈیا سے ہٹا دیا گیا اور اس حوالے سے طالبان حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی۔
اس سے قبل طالبان کی وزارت دفاع نے اعلان کیا تھا کہ اس کی فورسز کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں رات 12 بجے نائب امیر کے احکامات پر روک دی گئی تھیں۔ وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا تھا کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے یہ اقدام کیا گیا۔
پاکستانی حکام کی جانب سے حالیہ پیش رفت پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ سرحدی علاقوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جب کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر سرحد پار حملوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر بیانات اور ان کی فوری واپسی خطے کی غیر یقینی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، جب کہ سرحدی سیکیورٹی اور سفارتی رابطوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔