وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا امن و امان پر اہم اجلاس ، اہم فیصلے اور ہدایات

February 27, 2026 · قومی
فائل فوٹو

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکیورٹی اقدامات، پولیس کی ضروریات اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے پولیس اور سی ٹی ڈی کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑ رہی ہیں، جنہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

اجلاس میں رمضان المبارک میں ختمِ القرآن کے اجتماعات کے لیے خصوصی سیکیورٹی اقدامات کی ہدایت کی گئی۔

محکمہ پولیس میں خالی آسامیوں کو جلد پُر کرنے کا حکم؛ عید سے قبل 9 ہزار سے زائد اہلکاروں کی بھرتی مکمل کر لی جائے گی۔

خیبرپختونخوا کو ‘ہارڈ ایریا’ قرار دلوانے کا معاملہ دوبارہ وفاق کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

 دہشت گردی سے متاثرہ اہلکاروں کے لیے مصنوعی اعضا (Artificial Limbs) فراہم کرنے کی باضابطہ پالیسی بنانے کی ہدایت دی گئی۔

 امن و امان کی صورتحال پر اب ہر ہفتے باقاعدگی سے اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پشاور سیف سٹی پراجیکٹ افتتاح کے لیے تیار ہے، جبکہ ڈی آئی خان، بنوں اور لکی مروت میں یہ پراجیکٹس 31 مارچ تک مکمل ہو جائیں گے۔ مزید برآں، بی آر ٹی، محکمہ تعلیم اور لوکل گورنمنٹ کے کیمروں کو بھی سیف سٹی سسٹم کے ساتھ منسلک (Integrate) کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے افسوس کا اظہار کیا کہ وفاقی سطح پر صوبے کے سنگین مسائل پر توجہ دینے کے بجائے سیاسی انتقام پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دستیاب وسائل اور افرادی قوت کے بل بوتے پر خود ہی صورتحال سے نمٹنا ہے۔ رواں مالی سال پولیس کو خریداری کے لیے اب تک 15.1 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔