پاک افغان موجودہ صورتحال پر مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کا موقف

رمضان کا مہینہ مواسات، ہمدردی اور صبر کا مہینہ ہے۔ اس میں تعلیم دی گئی ہے کہ اگر کوئی تم سے لڑنے آئے تو تم کہیں: "میرا روزہ ہے

               
February 28, 2026 · امت خاص

شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدہ صورتحال پر تفصیلی موقف پیش کیا۔ ان کے مطابق رمضان کے مہینے میں اس قسم کی جنگ نہایت افسوسناک اور ناقابل قبول ہے۔

مولانا عثمانی نے کہا کہ رمضان کا مہینہ مواسات، ہمدردی اور صبر کا مہینہ ہے۔ اس میں تعلیم دی گئی ہے کہ اگر کوئی تم سے لڑنے آئے تو تم کہیں: “میرا روزہ ہے”۔ لیکن افسوس کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسلمانوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہے۔

لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہمارے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہے۔ افسوس ناک بات ہے کہ رمضان کے مہینے میں یہ جنگ چھڑ گئی۔ ادھر بھی مسلمان، ادھر بھی مسلمان اور آپس میں برسر پیکار ہو گئے۔ اصل وجہ جنگ کی وہ تو یہ ہے کہ عرصہ دراز سے پاکستان کے اوپر ایک ایسی جماعت مسلط ہے جو پاکستان کے اندر دہشتگردی کی کارروائیاں کرتی۔ اس نے اپنی دہشتگردی میں مسجدوں کو نہیں چھوڑا، بچوں کو نہیں چھوڑا، عورتوں کو نہیں چھوڑا، علما کو نہیں چھوڑا اور بلا امتیاز مسجد کے نمازیوں پر خودکش حملے، بازاروں پر خودکش حملے، اپنی خودکشی کر کے دوسرے کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ۔

اور جو جماعت یہ کام کر رہی ہے وہ نام لیتی ہے طالبان کا، تحریک طالبان پاکستان۔ ہم بار بار اس بات کو واضح طور سے اعلان کر چکے ہیں کہ یہ تحریک جو ہے یہ کسی طرح بھی ان کے لیے جائز نہیں ہے، حرام ہے ان کے لیے کہ مسلمانوں کے اوپر حملہ آور ہوں۔ اور یہ سلسلہ سالہ سال سے چل رہا ہے۔ افسوس ہے کہ ہم نے بار بار افغان طالبان جو حکیم سی معنی میں طالبان ہیں، یہ تو انہوں نے نقلی طالبان ہیں۔ یہ اصلی طالبان جو ہیں ان سے بار بار ہم نے درخواست کی، آج نہیں بلکہ اس وقت بھی جب امریکہ کے ساتھ جنگ جاری تھی، اس وقت بھی یہ لوگ پاکستان کے اندر دہشتگردی کی کارروائیاں کرتے تھے اور اس کو جہاد کا نام دیے دیتے۔ بغاوت کو جہاد کا نام دیا ہوا تھا۔ اس وقت بھی ہم نے کھل کر یہ بات کہی کہ یہ ناجائز اور حرام کام کر رہے ہیں۔

لیکن اور اس وقت ہم نے افغانستان کے طالبان سے چونکہ ہمارے بہت اچھے قریبی روابط تھے، ہم نے ان کی حد تک امکان اپنی بس میں جتنا تھا امریکہ کے خلاف ان کی مدد کی اور ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ اس وقت بھی ہم ان سے جب درخواست کرتے تھے کہ آپ یہ ایک مرتبہ یہ جو آپ کے بناوٹی طالبان ہیں تحریک طالبان پاکستان کے نام سے، آپ سے ان کا کوئی تعلق ہے یا نہیں ہے تو وہ کہتے تھے کہ نہیں، ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ تو ہم کہتے تھے کہ ایک مرتبہ کم از کم آپ ان سے براءت کا اظہار کر دیں کیونکہ آپ کا نام استعمال کرتے ہیں۔ لیکن بار بار کہنے کے باوجود اور بار بار اس کا اقرار کرنے کے باوجود، انہوں نے اس سے اس زمانے میں ان سے براءت کا اظہار نہیں کیا۔ یہ رویہ ان کا افسوس ناک ہے جو چلا آ رہا ہے اور اسی رویے کی بنیاد پر اب یہ تحریک طالبان پاکستان کہنے والے ٹی ٹی پی جس کو کہا جاتا ہے، یہ اپنا امیر المومنین انہیں کو کہتی ہے اور انہیں کا نام استعمال کرتی ہے اور پھر انہیں کی زمین سے ہمارے اوپر آ کر حملہ آور ہوتی ہیں یہ سلسلہ عرصۂ دراز سے چلا آ رہا ہے یہ ہمیں شکایت افغانستان سے مدتوں سے ہے اب بھی ہے لیکن اس شکایت کے لیے ہمارے نزدیک آپس میں جنگ کر لینا جنگ ٹھان لینا یہ کوئی اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس سے نہ پاکستان کا فائدہ نہ اس افغانستان کا فائدہ اس سے صرف دشمنانِ اسلام کو فائدہ ہوگا اور افسوس یہ ہے کہ یہ جنگ رمضان کے مہینے میں شروع ہو گئی۔ کس نے پہلے پہل کی کس نے جواب دیا اس بحث سے قطع نظر لیکن رمضان کے مہینے میں قرآن کہتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کوئی دوسرا بھی تمہارے ساتھ جہالت کا برتاؤ کرے لڑائی کرے تو تم کہو میرا روزہ ہے میں اس وقت رمضان کے اندر تم سے لڑائی نہیں کروں گا مگر یہاں رمضان کے اندر بچھڑ گئی ہے تو انتہائی افسوس ہوتا ہے۔

اور ہونا یہ چاہیے تھا میں آپ سے آج حقیقت بھی عرض کر دوں کہ یہ جو فسادی گروہ ہیں چاہے وہ ٹی ٹی پی کے نام سے ہوں چاہے وہ داعش کے نام سے ہوں یا کسی اور نام سے ہوں یہ ایسے گروہ ہیں کہ جن کے بارے میں سوائے اس کے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ پاکستان جیسے ملک کو کمزور کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔ اگر یہ کہوں تو کچھ مبالغہ نہیں ہوگا کہ کھڑے کیے گئے ہیں۔ آپ اس بات کا نوٹس لیں کہ کل ہندوستان کا وزیراعظم مودی اور اسرائیل کا وزیراعظم نیتن یاہو دونوں کی اسرائیل میں ملاقات ہوئی ہے اور اسرائیل کی طرف سے نریندر مودی کو اسرائیل کا سب سے بڑا اعزاز دیا گیا ہے اس لیے کہ پاکستان ایک کھٹکتا ہے ان کی نگاہوں میں کہ اگر کسی وقت موقع آیا تو یہ ملک ہے جو ہمارا دشمن ہے۔ لہٰذا جو ہمارے دشمن کا دشمن بن جائے وہ ہمارا دوست ہے یہ باقاعدہ اعلان ہو گیا ہے۔

تو بہرحال اس تمام تلخ حقیقت کے باوجود ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے جنگ کسی بھی اعتبار سے فائدہ مند نہیں ہے۔ اس کا نقصان ہوگا دونوں کو ہوگا اور جنگ کے زمانے میں جب جنگ چھڑ جاتی ہے تو پھر دعوے بھی بڑے اونچے اونچے کیے جاتے ہیں اور ہر ایک اپنی فتح کے دعوے کرتا ہے اور اس میں دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ اگر معاملے کو سلجھانا چاہے سلجھانا مقصود ہو سچے دل سے مقصود ہو تو دو مسلمانوں میں کوئی بھی ایسا مسئلہ نہیں ہوتا جو کبھی سلجھایا نہ جا سکے۔ اس معاملے کو جب لڑائی تک پہنچانا اور خاص طور پر رمضان کے مہینے میں جہاں یہ حضور کا ارشاد ہے کوئی دوسرا بھی لڑائی پہ آمادہ ہو تو تم کہو میرا روزہ ہے میں نہیں لڑتا اس میں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہو جانا ایک دوسرے کے اوپر ہتھیار اٹھانا ایک دوسرے کے ساتھ جان کے دشمن ہو جانا انتہائی افسوس ناک ہے، انتہائی الم ناک ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس چیز کا وہ زبانی طور پر اقرار بھی کرتے ہیں کہ ہمارے یہاں سے لوگ جاتے ہیں پاکستان کے اوپر حملہ آور ہونے کے لیے لیکن ہم نے اپنی طرف پر منع کر رکھا ہے۔ اپنے طور پر ہم نے فتویٰ دے رکھا ہے کہ یہ پاکستان کے اوپر حملہ کرنا ناجائز ہے، لیکن یہ فتویٰ دینے کے باوجود وہ ان کا نام استعمال کر کے ہمارے اوپر حملہ آور ہوتے ہیں۔ تو اس کا تقاضہ یہ تھا کہ یہ ان سے براءت کا اس میں صرف براءت کا اعلان کریں بلکہ ساتھ ساتھ ان کو لگام دیں۔ اور اس کو اس لگام دینے میں وہ کہتے ہیں بھئی یہاں پر بھی ہیں یہ فسادی گروہ اور پاکستان کے اندر بھی ہیں، نہ ہم سے سنبھل رہے ہیں نہ پاکستان سے سنبھل رہے ہیں۔ تو اس کا واحد حل یہ تھا کہ دونوں مل کر، دونوں یکجان ہو کر اس فسادی گروہ کا مقابلہ کریں، نہ یہ کہ آپس میں گتھم گتھا ہو جائیں۔ لیکن افسوس ہے کہ ابھی تک اس کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ بہرحال بھائی، ہم جیسا آدمی جس کا کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے، وہ سوائے افسوس کے اور سوائے اللہ تعالیٰ سے دعا کے اور کیا کر سکتا ہے؟

تو بھائی رمضان کے ساعاتوں میں اس بات کی بھی دعا سب مسلمانوں کو کرنی چاہیے کہ مسلمان کا مسلمان سے لڑنا انتہائی مبغوض چیز ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی سخت وعید فرمائی ہے کہ جب دو مسلمان تلوار اٹھا کر ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو جائیں تو:
قاتل بھی جہنم میں ہے۔
مقتول بھی جہنم میں ہے۔

یہ فرمایا رسول اکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔ صحابہ کرام نے پوچھا کہ یا رسول اللہ، قاتل کا تو جہنم میں آنا سمجھ میں آتا ہے، مقتول کیوں جہنم میں؟ کیونکہ مقتول اس سے جہنم میں ہے کہ وہ یہ ارادہ لے کر نکلا تھا کہ میں اس کو قتل کروں گا مسلمان کو۔ وہ داؤ نہیں چلا اس کا، ورنہ اس نے اپنی طرف سے کوئی کمر کسیر نہیں چھوڑی تھی۔ لہٰذا یہ صورت حال انتہائی افسوس ناک بھی ہے، شرم ناک بھی ہے اور ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے سامنے پر فریاد کرے:
یا اللہ، اس مصیبت میں ہم گرفتار ہو گئے ہیں، ہمیں اس سے نکال دیجیے۔ اللہم الف بین قلوبنا واصلح ذات بیننا وحدنا سبول السلام۔ اے اللہ، ہمارے دلوں میں الفت پیدا فرما دیجیے اور ہمارے باہمی جھگڑوں میں اصلاح پیدا کر دیجیے اور ہمیں سلامتی کے راستوں کی ہدایت کر دیجیے۔ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے، تو اس دعا کا ہر مسلمان احترام کرے اور جس کے بس میں جو کوئی کوشش ہے وہ اپنائے کہ اس فتنے کو کسی طرح ختم کیا جائے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہماری ٹوٹی پوٹی عبادتوں کو قبول فرمائے، عالم اسلام پر رحم فرمائے اور جو دشمن یہ چاہ رہے ہیں کہ یہ خود آپس میں لڑ بھڑ کر ختم ہو جائیں، تو اللہ تعالیٰ دشمنوں کی سازش سے ہماری حفاظت فرمائے اور ان کو ناکام بنائے۔