امریکی اور اسرائیلی جارحیت پر ایرانی حکومت کا اعلامیہ

جس طرح ہم مذاکرات کے لیے تیار تھے، اسی طرح ہم دفاع کے لیے بھی پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہیں

               
February 28, 2026 · امت خاص

 

 

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ہمارا مقدس اور محبوب وطن، فخرِ عالم اور صاحبِ تہذیب ایران، ایک بار پھر امریکہ اور صہیونی حکومت کی مجرمانہ فوجی جارحیت کا نشانہ بنا ہے۔آج صبح، نوروز کی آمد پر اور ماہِ رمضان المبارک کے دسویں دن، امریکہ اور صہیونی حکومت نے ایران کی علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے ہمارے ملک کے مختلف شہروں میں دفاعی انفراسٹرکچر اور سویلین مقامات کو نشانہ بنایا۔

 

امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف یہ تازہ فوجی جارحیت ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی عمل جاری تھا۔ امریکہ اور صہیونی حکومت کے مذموم ارادوں سے واقف ہونے کے باوجود، ہم نے ایک بار پھر مذاکرات کا راستہ اختیار کیا تاکہ بین الاقوامی نظام اور دنیا کے تمام ممالک پر ایرانی قوم کی حقانیت ثابت کر سکیں اور جارحیت کے ہر بہانے کو غیر قانونی ظاہر کر سکیں۔

 

آج ایرانی عوام اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے جنگ کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وطن کا دفاع کیا جائے اور دشمن کی فوجی جارحیت کا مقابلہ کیا جائے۔ جس طرح ہم مذاکرات کے لیے تیار تھے، اسی طرح ہم دفاع کے لیے بھی پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج پوری طاقت کے ساتھ جارحیت پسندوں کو جواب دیں گی۔

 

صہیونی اور امریکی حکومتوں کے ایران پر فضائی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی خلاف ورزی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کھلی مسلح جارحیت ہیں۔ اس جارحیت کا جواب دینا اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق ایران کا قانونی اور جائز حق ہے، اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اس مجرمانہ جارحیت کا مقابلہ کرنے اور دشمن کے شرپسندانہ فعل کو ناکام بنانے کے لیے اپنی تمام تر طاقت اور وسائل بروئے کار لائیں گی۔

 

اسلامی جمہوریہ ایران اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل کو ان کی سنگین ذمہ داری یاد دلاتا ہے کہ وہ امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی امن و سلامتی کی خلاف ورزی کے خلاف فوری کارروائی کریں۔ ایران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، سلامتی کونسل کے صدر اور اس کے ارکان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

 

اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک، بالخصوص علاقائی اور اسلامی ممالک، غیر وابستہ تحریک (NAM)کے ارکان اور وہ تمام ریاستیں جو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خود کو ذمہ دار سمجھتی ہیں، ان سے توقع ہے کہ وہ اس جارحانہ اقدام کی سخت مذمت کریں گے اور اس کے خلاف فوری اور اجتماعی کارروائی کریں گے، جس نے بلاشبہ خطے اور دنیا کے امن و سلامتی کو بے مثال خطرے میں ڈال دیا ہے۔اور اب، جب تاریخ کا ایک بڑا امتحان آن پہنچا ہے، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج، اس سرزمین کے عظیم رزمیہ ورثے سے متاثر ہو کر اور اللہ تعالی پر بھروسہ کرتے ہوئے، الہی فتح کے وعدے پر ایمان اور قومی طاقت کے بل بوتے پر، اپنے پیارے وطن کے دفاع میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی۔

 

تاریخ گواہ ہے کہ ایرانیوں نے کبھی غیر ملکی جارحیت اور تسلط کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا؛ اس بار بھی ایرانی قوم کا ردعمل فیصلہ کن اور حتمی ہوگا اور جارحیت پسندوں کو ان کے مجرمانہ فعل پر پشیمان کر دے گا۔