بریکنگ ایران پر حملے سے پاکستانی اسٹاک مارکیٹ کریشں، ٹریڈنگ معطل
انڈیکس 9 فیصد گر گیا، جس کے باعث سرمایہ کار خوف کا شکار ہوگئے
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو شدید دھچکا پہنچایا اور مارکیٹ میں ریکارڈ گراوٹ دیکھی گئی۔
پیر کو کاروبار کے آغاز کے ساتھ ہی حصص بازار میں تیزی سے فروخت کا رجحان غالب آگیا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس تاریخ کی بڑی مندی سے دوچار ہوا۔
مارکیٹ کھلتے ہی فروخت کا دباؤ اس قدر بڑھا کہ انڈیکس 15 ہزار 121 پوائنٹس تنزلی کے بعد ایک لاکھ 52 ہزار 940 کی سطح تک آگیا۔
9 فیصد سے زیادہ کمی کے باعث ’مارکیٹ ہالٹ‘ کی حد عبور ہوگئی، جس پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی انتظامیہ نے فوری طور پر لین دین عارضی طور پر روک دیا۔
ماہرین کے مطابق ایران پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خطے میں ممکنہ وسیع پیمانے کی جنگ کے خدشات نے مقامی سرمایہ کاروں کو گھبراہٹ میں حصص فروخت کرنے پر مجبور کیا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ غیر معمولی مندی کی بڑی وجہ بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال ہے، جبکہ خلیجی خطے میں تناؤ کے سبب سپلائی چین متاثر ہونے اور پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔