پشاور ہائیکورٹ: پی ٹی ایم پر پابندی کے خلاف منظور پشتین کی درخواست خارج
قانون کے تحت درخواست گزاروں کو فیصلے کے خلاف پہلے نظرِ ثانی کمیٹی سے رجوع کرنا چاہیے تھا ، فیصلہ
فائل فوٹو
پشاور ہائیکورٹ نے کالعدم تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) پر پابندی کے خلاف دائر درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے تنظیم کے سربراہ منظور پشتین کی جانب سے دائر کردہ رٹ پٹیشن کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا ہے۔
جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ کے تحریر کردہ 62 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ پی ٹی ایم پر پابندی کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی ہے اور وفاقی حکومت نے اس ضمن میں قانون اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ قانون کے تحت درخواست گزاروں کو فیصلے کے خلاف پہلے نظرِ ثانی کمیٹی سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ متعلقہ فورم سے رجوع کیے بغیر براہِ راست ہائیکورٹ میں رٹ دائر کرنا قانونی طور پر درست نہیں۔
کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے پابندی کی وجوہات پر مشتمل ایک سیل بند لفافہ عدالت میں جمع کرایا گیا تھا۔ عدالت نے ان خفیہ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد انہیں واپس کر دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ درخواست گزار کو اب بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے کے خلاف قانون کے مطابق تشکیل دی گئی نظرِ ثانی کمیٹی کے سامنے اپنا موقف پیش کرے۔