معمولی نزلہ زکام پر اینٹی بائیوٹک دوا کا خود سے استعمال جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے
اگر اس رجحان پر قابو نہ پایا گیا تو آئندہ 25 برسوں میں پاکستان میں 2 لاکھ 62 ہزار سے زائد اموات ہو سکتی ہیں۔
اسلام آباد: وفاقی محکمہ صحت کے مطابق اینٹی بائیوٹک ادویات کے بے جا اور غیر ضروری استعمال کے باعث ملک میں خطرناک جراثیم تیزی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جن پر عام ادویات اثر نہیں کر رہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس رجحان پر قابو نہ پایا گیا تو آئندہ 25 برسوں میں پاکستان میں 2 لاکھ 62 ہزار سے زائد اموات ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان خطے کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے اینٹی بائیوٹک مزاحمت سے متعلق قومی فہرست مرتب کی ہے۔ اس فہرست میں ٹی بی، ٹائیفائیڈ، نمونیا اور ہیضہ پھیلانے والے جراثیم کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں سالانہ 185 ارب روپے مالیت کی اینٹی بائیوٹکس فروخت ہوتی ہیں، جبکہ 2023 میں 126 ارب روپے کی ادویات بغیر ڈاکٹری نسخے کے استعمال کی گئیں۔ ماہرین کے مطابق یہ غیر ذمہ دارانہ استعمال جراثیم کو مزید طاقتور بنا رہا ہے۔
صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اینٹی بائیوٹکس کے غلط استعمال کا سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں سرجری، زچگی اور کینسر جیسے علاج بھی خطرناک اور جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اینٹی بائیوٹک استعمال نہ کریں اور مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔