پاکستان کے بگرام ایئر بیس پر فضائی حملے، کیا کچھ تباہ ہوا
امریکی اخبار نے حملے کی تصدیق کردی تباہی کی تصویر بھی سامنے آگئی
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے تصدیق کی ہے کہ یکم مارچ 2026 کو پاکستان نے افغانستان میں واقع بگرام ایئر بیس پر فضائی حملے کیے ہیں۔
دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی لڑاکا طیارے صبح تقریباً 5 بجے افغان فضائی حدود میں داخل ہوئے اور ایئر فیلڈ کو نشانہ بنایا۔
افغان حکام نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ فضائی دفاعی نظام کے ذریعے حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ تاہم بعد ازاں جاری ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر میں کم از کم دو بڑے گوداموں اور ایک طیارہ ہینگر کی تباہی کی تصدیق ہوئی۔
امریکی اخبار نے بگرام ایئر بیس پر ہونے والی تباہی کی تصدیق کی ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان کئی ماہ سے کشیدگی جاری ہے۔
واضح رہے کہ بگرام ایئر بیس پر امریکہ اور سابق افغان فوج کے چھوڑے گئے طیارے اور ہیلی کاپٹر موجود تھے جن میں سے کچھ کو طالبان نے دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی تھی۔ کابل پر طالبان کے قبضے کے وقت بیشتر طیارے سابق افغان پائلٹ اپنے ساتھ دوسرے ملکوں میں لے گئے تھے اور کچھ کو ناکارہ بنا گئے تھے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ لڑائی میں طالبان نے “افغان ایئر فورس” کی اصطلاح استعمال کرنا شروع کی اور پاکستان پر فضائی حملوں کا دعوی کیا۔ بگرام ایئر بیس پر بمباری اس کے بعد ہوئی ہے۔
فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ پاکستان کے حملے میں بگرام ایئر بیس پر موجود طیارے تباہ ہوئے ہیں یاںل نہیں۔
پاکستان الزام عائد کرتا رہا ہے کہ طالبان حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو پناہ دے رہی ہے، جس نے حالیہ مہینوں میں پاکستان کے اندر حملوں میں شدت پیدا کی ہے۔
کشیدگی بڑھنے پر پچھلے چند روز میں پاکستان نے افغانستان کے اندر حملے کیے ہیں جب کہ طالبان حکومت کے غیر قانونی ہونے کا موقف اپنایا ہے۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بتایا کہا کہ فوج نے افغانستان بھر میں 46 مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جن کے نتیجے میں 400 سے زائد طالبان اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔