امریکی وزیر جنگ نے ایران پر حملے کو اسلام سے جوڑ دیا

مذہبی پیشگوئیوں پر منبی اسلامی خام خیال میں رہنے والے ممالک ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکے، پیٹ ہیگسیتھ

               

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کو اسلام سے جوڑ دیا ہے۔ ایران پر حملے کے حوالے سے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں امریکی وزیر جنگ جن کا عہدہ ٹرمپ سے پہلے وزیر دفاع کا کہلا تھا، نے ٹرمپ کے اقدام کا دفاع کیا۔

پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ ایران جیسی پاگل نظریاتی حکومتوں کو جو پیش گوئیوں پر مبنی اسلام پسندانہ خام خیالی میں مبتلا ہیں، انہیں ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ سادہ سی عقل کی بات ہے۔ بہت سے لوگوں نے یہ کہا ہے، لیکن اسے واقعی نافذ کرنے کے لیے حوصلہ چاہیے ہوتا ہے، اور ہمارے صدر میں وہ حوصلہ موجود ہے۔

امریکی وزیر جنگ نے prophetic Islamist delusions کے الفاظ استعمال کیے۔ جس کا مطلب مذہبی پیش گوئیوں پر مبنی اسلام پسندانہ تصورات بنتا ہے۔ انگریزی لفظ prophecy کا مطلب پیش گوئی ہوتا ہے اور یہاں لفظ prophetic اسی تناظر میں استعمال ہوا ہے۔

امریکی وزیر جنگ کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر سخت تنقید شروع ہوگئی ہے۔ لوگ اسے اسلام کی توہین قرار دے رہے ہیں۔

اس واقعے نے جارج بش کے افغانستان پر حملے کی یاد بھی تازہ کی ہے جب بش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو شروع میں crusade یعنی صلیبی جنگ کا نام دیا تھا۔

امریکی وزیر جنگ نے پریس کانفرنس پیر کے روز کی تھی۔ اس سے قبل اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہیکابی نے کہا تھا کہ اسرائیل کو فلسطینی سرزمین پر قائم رہنے کا حق بائبل میں دیا گیا ہے اور یہ زمین اسرائیلیوں کو خدا نے حضرت ابراہیم کے ذریعے دی تھی۔