”لگائی بجھائی نہیں صرف بجھائی”۔ سندھ میں خواتین فائرفائٹرزکی تعداد بڑھ رہی ہے

اندازہ نہیں تھا کہ یہ فیلڈ اتنی مشکل ہے۔ تربیت نے انھیں صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی مضبوط بنایا

               
March 3, 2026 · امت خاص

سندھ کی خواتین فائرفائٹرز

 

سندھ کے فائرفائٹنگ شعبے میں خواتین اہل کاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔2020 میں ریسکیو1122 کراچی نے خواتین کو پہلی بار شامل کیا تھا۔ 20فائرفائٹرزنے پنجاب سروسز اکیڈمی میں تربیت حاصل کرکے خدمات انجام دینے کا آغاز کیا۔2024ء میں انہیں میدان عمل میں اتارا گیا ،تب ان کی تعداد72تھی ۔آج ،ریسکیو 1122 حکام کے مطابق 1500 اہلکار وں میں 96 خواتین ہیں، جو نہ صرف کراچی بلکہ حیدرآباد، لاڑکانہ، میرپورخاص میں بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

 

ریسکیوکراچی کی خواتین فائرفائٹرزکے لیے اس شعبے تک پہنچنے کا راستہ آسان نہیں تھا۔ بھرتی کے لیے پہلے فزیکل اور تحریری امتحان ہوا، پھر انھیں تربیت کے لیے لاہور بھیجا گیا جہاں چھ سے سات ماہ تک عملی مشقیں، فائر فائٹنگ، ریسکیو اور میڈیکل ایمرجنسی کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ انھیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ فیلڈ اتنی مشکل ہے۔ بعد میں تربیت نے انھیں صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی مضبوط بنایا۔وہ کہتی ہیں کہ جب ہم کسی حادثے پر پہنچتے ہیں تو لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں، ہر طرف افراتفری ہوتی ہے۔ ہمیں فورا فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ پہلے کس کو بچانا ہے اور آگ پر کیسے قابو پانا ہے۔

 

ریسکیو 1122 کے سی ای او عابد جلال شیخ کہتے ہیں کہ خواتین کی شمولیت نمائشی قدم نہیں بلکہ پالیسی کا حصہ ہے۔ان کے مطابق، 2022 سے اب تک صرف کراچی میں 2400سے زائد آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، رواں سال ہی ایک ہزار سے زیادہ واقعات میں ریسکیو نے کارروائی کی۔وہ کہتے ہیں کہ ان میں سے تقریبا 15 سے 20 فیصد واقعات انتہائی شدت کے ہوتے ہیں، خاص طور پر صنعتی علاقوں میں۔ ہماری تربیت میں مرد و خواتین کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا جاتا۔ ہر اہلکار یکساں تربیت سے گزرتا ہے کیونکہ ایمرجنسی میں جنس نہیں دیکھی جاتی، صرف ذمہ داری دیکھی جاتی ہے۔

 

پاکستان کی پہلی خاتون فائرفائٹر شازیہ پروین، کا تعلق پنجاب کے ضلع وہاڑی سے ہے،وہ 2010میں ریسکیو 1122کی ہنگامی خدمات میں بطور فائر فائٹر شامل ہوئی تھیں۔ انہوں نے لاہور میں سات ماہ کی تربیت حاصل کی اور وہ واحد خاتون تھیں جنہوں نے یہ تربیت مکمل کی۔ان کی عمر اس وقت 22 سال تھی۔نہوں نے اپنے کام کا آغاز وہاڑی فائر ڈیپارٹمنٹ سے کیا جہاں انہوں نے فیکٹریوں اور گھروں میں لگنے والی آگ، خاص طور پر بجلی سے لگنے والی آگ بجھانے کے کئی آپریشنز میں حصہ لیا۔2016 میں، پروین کو وہاڑی فائر ڈیپارٹمنٹ میں ‘لیڈ فائر انسٹرکٹر’ کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ بعد ازاں ان کا تبادلہ لاہور کے ٹھوکر نیاز بیگ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ میں بطور ٹرینر ہوا۔ شازیہ نے پنجاب ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ میں نئے ارکان کو ‘اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرزکی تربیت دی۔ انہوں نے محکمے میں 1ہزارسے زائد نئے اہل کار وں میں لڑکوں اور لڑکیوں کو بھی آگ بجھانے کی تربیت فراہم کی ۔