امریکا پر ہلہ بول، ایران پر حملے کیخلاف عورت مارچ کا احتجاج
شرکا نے "امریکہ کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے" اور "امریکہ و اسرائیل پر ہلہ بول" جیسے فلک شگاف نعرے لگائے۔
لاہور: ایران پر حالیہ امریکی و اسرائیلی حملوں اور آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے خلاف پاکستان میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف مذہبی حلقوں بلکہ لبرل اور ترقی پسند سمجھے جانے والے طبقات کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لاہور میں منگل کے روز ‘عورت مارچ’ اور ‘پروگریسو اسٹوڈنٹس کولیکٹیو’ کی جانب سے امریکی سفارتی مشن کے قریب ایک بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
نعروں کی تبدیلی اور عوامی غم و غصہ مظاہرے کی خاص بات وہ نعرے تھے جو اب تک محض مذہبی جماعتوں کی شناخت سمجھے جاتے تھے۔ شرکا نے “امریکہ کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے” اور “امریکہ و اسرائیل پر ہلہ بول” جیسے فلک شگاف نعرے لگائے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے نے دائیں اور بائیں بازو کی تفریق ختم کر دی ہے اور نوجوانوں میں سامراج دشمنی کے جذبات کو مہمیز دی ہے۔
طالبات کی شہادت پر تشویش مظاہرین نے ایران میں خاص طور پر لڑکیوں کے ایک اسکول پر ہونے والے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی، جس میں 150 سے زائد معصوم طالبات شہید ہو چکی ہیں۔ عورت مارچ کی نمائندہ خواتین کا کہنا تھا کہ علم کی شمع روشن کرنے والی بچیوں پر حملہ انسانیت کے خلاف بدترین جرم ہے۔
پابندیوں کے باوجود احتجاج لاہور میں دفعہ 144 کے تحت چار سے زائد افراد کے جمع ہونے اور جلسہ جلوس پر پابندی عائد ہے، تاہم مظاہرین ان تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے امریکی قونصل خانے تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ مظاہرین نے وہاں موجود کنٹینرز کے قریب کھڑے ہو کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور عالمی برادری سے ایران کے خلاف جارحیت رکوانے کا مطالبہ کیا۔