امریکہ اور اسرائیل کو ٹکر دینے والا ایرانی ڈرون شاہد،غریب کا کروز میزائل
ن کی بڑی تعداد اصل طاقت ا ہے۔ایک ہتھیار کی قیمت20 ہزار سے 50ہزار ڈالر بتائی جاتی ہے
شاہد ڈرون
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خلیجی ممالک میں ایک ایسی آواز سنائی دے رہی ہے جو پہلے یوکرین کے میدانِ جنگ میں خوف کی علامت بن چکی ہے۔یہ آواز ہے ایرانی ساختہ شاہد 136کامی کازی ڈرون کی۔یہ ڈرون نسبتاً سادہ نظر آتا ہے، مگر جنگی حکمت عملی میں اس کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ روس پہلے ہی یوکرین کی جنگ میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر چکا ہے، اور اب ایران اسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائی میں استعمال کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اب تک ہزاروں ڈرون استعمال کر چکا ہے۔خلیجی ممالک نے امریکی دفاعی نظام، خصوصا پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی مدد سے زیادہ تر ڈرون مار گرائے، لیکن کئی ڈرون اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب بھی ہوئے۔متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک 941 ایرانی ڈرون کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے 65ڈرون اماراتی حدود میں گر کر بندرگاہوں، ایئرپورٹس، ہوٹلوں اور ڈیٹا سینٹرز کو نقصان پہنچا چکے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ ان ڈرونز کی اصل طاقت ان کی بڑی تعداد ہے۔ایک شاہد ڈرون کی قیمت تقریبا 20 ہزار سے 50 ہزار ڈالر بتائی جاتی ہے، اسے مار گرانے والے دفاعی میزائل کی قیمت 30 لاکھ سے 1 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک ہو سکتی ہے۔اسی لیے بعض تجزیہ کار اسے “غریب آدمی کا کروز میزائل” بھی کہتے ہیں۔اس حکمت عملی کا مقصد دشمن کے مہنگے دفاعی نظام کو تھکا دینا ہے۔ماہرین کے مطابق ایران پہلے مرحلے میں بڑی تعداد میں ڈرون استعمال کرتا ہے، جبکہ بیلسٹک میزائل بعد کے مرحلے کے لیے محفوظ رکھتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق بدھ تک ایران اس جنگ میں 2 ہزار سے زیادہ ڈرون استعمال کر چکا تھا، اطلاعات ہیں کہ ایران ہر ہفتے مزید سینکڑوں ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مزیدتفصیلات وڈیومیں۔