واشنگٹن پر اعتماد ڈگمگا گیا۔ٹینکر کمپنیوں نے بڑی امریکی پیش کش ٹھکرادی

قطر میں اب بھی ہنگامی حالات ہیں اور قدرتی گیس کی پیداوار بند ہے

               
March 7, 2026 · امت خاص

 

امریکی وزیر توانائی نے بتایا ہے کہ بہت سے تجارتی آئل ٹینکر آپریٹر صدر ٹرمپ کی اس تجویز کو مسترد کر رہے ہیں جس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے امریکی فوجی تحفظ کی پیشکش کی گئی تھی۔ یہ بڑے پیمانے پر ہچکچاہٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک امریکی آئل ٹینکر کے مبینہ طور پر ڈوبنے اور بحری بیڑے ابراہم لنکن کو میزائل سے نشانہ بنائے جانے کے بعد سمندری تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔

 

شپنگ کمپنیاں اپنے جہازوں کو آپریشن ایپک فیوری کے درمیان لانے سے گریز کر رہی ہیں۔اس کی ایک بڑی وجہ پاسدارانِ انقلاب کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ اب آبنائے ہرمز پر ان کا مکمل کنٹرول ہے، خطے میں بحری ٹریفک میں مبینہ طور پر 85 فیصد تک کمی آ چکی ہے۔

 

اب تک ایران کے 17 بحری جہازوں کی مبینہ تباہی کی اطلاعات ہیں۔

 

دوسری جانب، سفارتی تناؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ تہران نے عوامی سطح پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا ہے کیونکہ اس نے اتحادی افواج کو فوجی کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اسی دوران، ڈنمارک نے بھی فرانس، اٹلی اور اسپین کے ساتھ مل کر ان حملوں کی مذمت کی ہے اور انہیں ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جس سے امریکہ کی زیرِ قیادت اس آپریشن پر عالمی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

 

بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اون نے مبینہ طور پر جوہری مداخلت کا انتباہ دیا ہے، ایران نے اسرائیل کی ڈیمونا ایٹمی تنصیب کے خلاف جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ساتھ ہی ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ تہران کی قیادت کے ساتھ رابطے مکمل طور پر منقطع ہونے کی صورت میں، روس ایرانی جوہری مقامات کو محفوظ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔

 

چونکہ امریکی کانگریس مزید حملوں کی اجازت دینے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے، اس لیے ٹینکر کمپنیوں کا فوجی تحفظ لینے سے انکار واشنگٹن کی طرف سے توانائی کی حفاظت کی حکمتِ عملی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ادھر قطر میں اب بھی ہنگامی حالات ہیں اور قدرتی گیس کی پیداوار بند ہے، جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ موسمِ سرما کے آغاز پر دنیا کو توانائی کی فراہمی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔