لائیو جنگ کا نواں روز،اسرائیل کے ایران میں تیل کے ذخیروں پر حملوں کے بعد آگ بھڑک اٹھی
تازہ حملوں کے دوران تہران، اصفہان اور دیگر شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اہم نکات
- جنگ کے نویں روز اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں میں شدت دیکھی گئی ہے، جبکہ اسرائیل نے ایران میں تیل کے ذخائر کو بھی فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔تہران میں آئل ڈپووں پر آگ بھڑک اٹھی۔ تیل بہنے سے سڑکوں پر بھی آگ پھیل گئی۔
- غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تازہ حملوں کے دوران تہران، اصفہان اور دیگر شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق بمباری کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد جاں بحق ہوئے۔
- رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حملوں میں فوجی اڈوں، میزائل لانچرز اور پاسداران انقلاب کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسرائیلی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایران کے درجنوں لڑاکا طیاروں کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
- ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ حالیہ کارروائیوں میں 220 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
- ایرانی ہلال احمر کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ایران میں 5 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس، ایک ہزار سے زیادہ کمرشل عمارتیں، 14 طبی مراکز، 65 اسکول اور ہلال احمر کے 13 مراکز متاثر ہوئے ہیں۔
- خطے میں جاری کشیدگی کے باعث صورتحال بدستور سنگین ہے اور عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی کی اپیلیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔

آئی سی سی کی میٹنگ 25 سے 27 مارچ تک قطر کے دارالحکومت دوحا میں ہونا تھی تاہم آئی سی سی میٹنگ خطے میں پائی جانے والی کشیدگی کی وجہ سے ملتوی کی گئی ہے۔
بھارتی کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق کہ آئی سی سی میٹنگ کا اب اپریل میں ہونے کا امکان ہے تاہم نئی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔
کویت میں ایرانی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکہ پہنچا دی گئیں۔ ریاست ڈیلاویئر کے ڈوور ایئر فورس بیس پر منتقلی کی تقریب ہوئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی ۔
خلیج تعاون کونسل نے بحرین اور کویت پر ایران کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بحرین اور کویت کے خلاف مسلسل حملے خطرناک جارحانہ اقدامات ہیں جو علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
ایران میں پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے، تفتان کے راستے ایران سے مزید 142 پاکستانی کوئٹہ پہنچ گئے۔
ایران سے کوئٹہ پہنچنے والوں میں زیادہ تر طالب علم ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بھی 100پاکستانی شہری ایران سے تفتان پہنچے تھے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ریاض کے سفارتی علاقے پر کیے گئے ڈرون حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
جنوبی تہران میں مرکزی ریفائنری کے قریب واقع آئل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا۔شمال مغربی تہران میں بھی آئل ڈپو پر حملہ ہوا جہاں دور سے آگ کے خوفناک شعلے اور دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ دارالحکومت کے علاقے شہران میں ایک اور حملے کی اطلاع بھی ملی ہے۔
ہم ایران میں ایسا صدر چاہتے ہیں جو ملک کو جنگ کی طرف نہ لے جائے
اسرائیلی دفاعی افواج نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے تہران میں کئی تیل کے ڈپوں یعنی ’فیول سٹوریج کمپلیکس‘ پر حملے کیے ہیں۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ’یہ اہم حملہ تھا جس کا مقصد ایندھن کے اُن ذخائر کو نشانہ بنانا تھا جنھیں ایران کے عسکری نظام اور فوجی بنیادی ڈھانچے کو چلانے کے لیے براہِ راست اور بار بار استعمال کیا جا رہا تھا۔