تمام اسکولوں کو 2 ہفتے کی چھٹیاں ، دفاتر ہفتے میں 4 دن کھلیں گے ، وزیر اعظم

20 گریڈ اور اس سے اوپر کے افسران کی تنخواہ سے 2 دن کی کٹوتی کر کے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی، قوم سے خطاب

               
March 9, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور توانائی کے ممکنہ بحران کے حوالے سے سرکاری و نجی دفاتر میں ہفتے میں 3 چھٹیاں، 50 فیصد عملے کو ورک فراہم ہوم جبکہ اسکولوں میں دو ہفتوں کی تعطیلات کا اعلان کردیا۔۔

قوم سے خطاب کرتے ہشہباز شریف نے اعلان کیا کہ آئندہ 2 ماہ کے لیے تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو بند کیا جارہا ہے، تیل کی بچت کیلیے دو ماہ کیلیے کابینہ اراکین، وزرا، مشیران اور معاونین تنخواہ نہیں لیں گے، اراکین کی تنخواہوں میں سے 25 فیصد کٹوتی ہوگی۔

وزیر اعظم نے کہاکہ 20 اور اوپر کے افسران جن کی تین لاکھ سے زائد تنخواہ ہے دو دن کی تنخواہ کاٹ کر عوامی ریلیف کیلیے استعمال ہوگی،تمام سرکاری محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جارہی ہے۔

شہباز شریف نے کہ سرکاری محکموں میں گاڑیوں، فرنیچر، ایئرکنڈیشنر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے،
وفاقی وزرا، مشیران اور دیگر کے بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد ناگزیر دوروں کی اجازت ہوگی،گورنرز پر بھی عائد ہوگی۔

وزیر اعظم نے کہاکہ آن لائن میٹنگ کو ترجیح دی جائے گی، سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیز پر مکمل پابندی عائد،
سرکاری اخراجات میں کمی کیلیے سیمینارز اور کانفرنسز ہوٹلز کے بجائے سرکاری دفاتر میں ہوں گے۔

انھوں نے کہاکہ ایندھن اور توانائی کی بچت کیلیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں،انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر باقی تمام جگہوں پر 50 فیصد اسٹاف گھر سے کام کرے گا ورک فراہم ہوم ہفتے میں چار دن دفاتر کھلیں گے،ہفتے میں ایک اضافی چھٹی، اطلاق بینکوں پر نہیں ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہاکہ صنعت، زراعت کے شعبوں پر بھی گھر سے کام کرنا اور ہفتے کی اضافی چھٹی کا اطلاق نہیں ہوگا،فوری طور پر تمام اسکولوں کو دو ہفتوں کیلیے بند کردیا گیا ہے،ہائیرایجوکیشن کے تمام اداروں میں آن لائن کلاسوں کا آغاز کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہاکہ ذخیرہ اندوزوں، پیٹرول اور ڈیزل کے ناجائز منافع خوروں کو خبرادار، اس صورت حال سے ہر گز فائدہ نہ اٹھائیں، قانون کا آہنی ہاتھ حرکت میں آئے گا، بلا امتیاز کارروائی ہوگی،تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 20 گریڈ اور اس سے اوپر کے افسران کی تنخواہ سے 2 دن کی کٹوتی کر کے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی، تمام سرکاری محکموں کے اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جا رہی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کا سامنا ہے، مسلح افواج بہادر سپہ سالار کی قیادت میں وطن کی سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ یقینی بنانے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت پر پاکستان گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین اور دیگر ملکوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، خلیجی ملکوں پر حملوں سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان آزمائش کی گھڑی میں ان ملکوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑا ہے، پاکستان ان ملکوں کی سلامتی کو اپنی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے۔

 شہباز شریف نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ دل پر پتھر رکھ کر کیا، یہ فیصلہ کرتے ہوئے میں کشمکش میں تھا، دل کچھ اور کہتا تھا اور دماغ کچھ اور۔

قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات میں جو اضافہ کیا گیا، اس حوالے سے تجویز اس سے بھی زیادہ اضافے کی تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر ہونیوالے اسرائیلی حملوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ خلیجی ملکوں پر حملوں سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں، پاکستان آزمائش کی گھڑی میں ان ملکوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑا ہے، پاکستان ان ملکوں کی سلامتی کو اپنی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 سے بڑھ کر 100 ڈالرز سے تجاوز کرچکی ہے، ہماری معیشت کا انحصار خلیج سے آنے والے تیل اور گیس پر ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے مشکل فیصلے کیے ہیں، عالمی منڈی میں تیل گیس کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں ہے، حکومت نے توانائی بحران کم کرنے کے لیے مشکل فیصلے کیے ہیں۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ حکومت ہر ممکن کوشش کررہی ہے کہ مشکل حالات کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھا جائے، تیل کی قیمتوں میں اضافہ مشکل اور دل پر پتھر رکھ کر کیا گیا، دماغ کہتا تھا کہ تیل کی قیمت میں اضافے کے سوا آپشن نہیں لیکن دل کہتا تھا کہ کہیں تیل کی قیمت میں اضافے  سے غریب عوام پر بوجھ نہ بڑھے۔

وزیر اعظم نے کہا آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو ملنے والی ایندھن میں 50 فیصد کمی کی جارہی ہے جس سے ایمبولینسز مستثنیٰ ہوں گی۔