افغانستان ایک بار پھر دہشت گرد تنظیموں کا گڑھ بن چکا ہے ، چینی مندوب

افغانستان میں چینی شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔چینی مندوب

               
March 10, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

نیویارک/بیجنگ: اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فوکونگ نے افغانستان کی صورتحال پر طالبان حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر دہشت گرد تنظیموں کا گڑھ بن چکا ہے، جو خطے کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

فوکونگ نے سلامتی کونسل میں خطاب کے دوران افغانستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہاکہ افغانستان میں فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی)، ای ٹی آئی ایم (ETIM)، داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں بلا روک ٹوک سرگرم ہیں۔

فوکونگ نے کہاکہ افغانستان کی سرزمین سے آپریٹ کرنے والے یہ گروہ ہمسایہ ممالک کی سلامتی کے لیے براہ راست اور سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

چینی مندوب نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ افغانستان میں چینی شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔

 چین نے طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خطرات کو تسلیم کریں اور اپنی سرزمین سے تمام دہشت گرد عناصر کے مکمل خاتمے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

عالمی دفاعی ماہرین نے چین کے اس سخت موقف کو پاکستان کے طویل مدتی موقف کی تائید قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق طالبان دورِ حکومت میں افغانستان دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جہاں انہیں منظم ہونے کے بھرپور مواقع میسر ہیں۔

 ماہرین نے انتباہ کیا ہے کہ بھارت اور افغانستان کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے کے استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے اثرات پورے جنوبی ایشیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔

 عالمی سطح پر اٹھنے والی یہ آوازیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کا یہ دعویٰ درست تھا کہ افغان طالبان دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔