جیفری ایپسٹین کی تمام دولت اور راز 2 لوگوں کے پاس ہونے کا انکشاف،ایف بی آئی نے بھی ہاتھ نہیں لگایا
تمام دعووں کے تصفیے کے بعد بچ جانے والی رقم سے ان دونوں کو کروڑوں ڈالر مل سکتے ہیں
رچرڈ کاہن اور ڈیرن انڈائیک
رچرڈ کاہن اور وکیل ڈیرن انڈائیک ایپسٹین کی جائیداد کے واحد منتظم ہیں، جو اس کی تمام دولت اور اثاثوں کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ نام عام لوگوں کے لیے زیادہ معروف نہیں لیکن اب وہ متاثرین کو دیے جانے والے معاوضے اور ایپسٹین کی دستاویزات میں چھپے رازوں کے مالک ہیں۔
ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی نے ایپسٹین کے نیٹ ورک کی تحقیقات کے سلسلے میں ان دونوں کو گواہی کے لیے طلب کیا ہے۔ ایپسٹین کے ہاتھوں متاثرہ ایک خاتون کوامیدہے کہ یہ لوگ کمیٹی کے سامنے خاموش رہنے کے بجائے سچ بولیں گے، کیونکہ اگر آپ پیسے کا پیچھا کریں، تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ پورا آپریشن کیسے چل رہا تھا۔
امریکی کانگریس مین سوہاس سبرامنیم نے کہا کہ یہ دو لوگ وہ ہیں جو ایپسٹین کے جرائم اور مالی معاملات کے بارے میں سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ تاہم، انڈائیک اور کاہن نے کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے اور ان پر فی الحال کوئی مجرمانہ الزامات نہیں ۔ ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ کسی بھی عدالت نے انہیں قصوروار نہیں ٹھہرایا اور نہ کسی خاتون نے ان پر براہ راست زیادتی کا الزام لگایا ہے۔
ایپسٹین نے اپنی موت سے محض دو دن پہلے اپنی تمام دولت ایک ٹرسٹ میں منتقل کرنے کے لیے اپنی وصیت میں تبدیلی کی تھی جس کا انتظام انڈائیک اور کاہن سنبھالیں گے۔ اس ٹرسٹ کے تحت، تمام دعووں کے تصفیے کے بعد بچ جانے والی رقم سے ان دونوں کو کروڑوں ڈالر مل سکتے ہیں۔ ایپسٹین کی جائیداد کی مالیت اس کی موت کے وقت35 ملین ڈالر (تقریباً 475 ملین پاؤنڈ) لگائی گئی تھی۔
عدالتی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انڈائیک اور کاہن کا ایپسٹین کے تقریباً تمام بینک اکاؤنٹس پر مکمل اختیار تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایسی فرضی کمپنیاں چلانے میں مدد کی جو صرف جنسی اسمگلنگ کے آپریشنز کے لیے بنائی گئی تھیں۔ یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے متاثرین کو خاموش رہنے کے لیے رقم ادا کی اور بیرون ملک سے لائی گئی خواتین کی زبردستی شادیوں میںسہولت کاری کی تاکہ وہ امریکہ میں رہ سکیں۔
ایپسٹین غیر ملکی خواتین کو امریکہ میں رکھنے کے لیے انہیں امریکی شہریوں سے شادی کرنے پر مجبور کرتا تھا۔ عدالتی کارروائی میں الزام لگایا گیا ہے کہ انڈائیک اور کاہن نے جان بوجھ کر ایسی کم از کم تین شادیوں میں سہولت کاری کی، جہاں متاثرین کو ڈرا دھمکا کر شادی پر مجبور کیا گیا۔ ایک امریکی خاتون، جس کا ایپسٹین برسوں استحصال کرتا رہا، اسے ایک دوسری متاثرہ خاتون کو ڈی پورٹ ہونے سے بچانے کے لیے شادی پر مجبور کیا گیا، اور مبینہ طور پر انڈائیک نے اسے طلاق لینے سے روکا اور دھمکی دی کہ وہ ایپسٹین کا تحفظ کھو دے گی۔
دستاویزات میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انڈائیک اور کاہن نے ورجن آئی لینڈز میں رجسٹرڈ ایک کمپنی کے ذریعے نوجوان خواتین اور ایک امیگریشن وکیل کو 3 لاکھ ڈالر کے چیک جاری کیے تاکہ اسمگل شدہ خواتین کو امریکہ میں رکھا جا سکے۔ کاہن کے وکیل نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کاہن ایپسٹین کی موت سے کچھ عرصہ پہلے تک ان اکاؤنٹس پر دستخط کرنے کا اختیار نہیں رکھتے تھے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق، ایک ڈیزائن کمپنی کا بینک اکاؤنٹ مکمل طور پر ایپسٹین کے ذاتی اکاؤنٹس سے منتقل شدہ رقم سے چلایا جاتا تھا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کاغذات پر اس کمپنی کی مالکن وہ خاتون تھی جس کا ایپسٹین جنسی استحصال کرتا تھا اور اسے کمپنی کے ذریعے ادائیگیاں کی جاتی تھیں۔ کاہن کے وکیل نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کا کام محض پیشہ ورانہ اکاؤنٹنگ تک محدود تھا۔
2020 میں بطور منتظمین، انڈائیک اور کاہن نے متاثرین کے معاوضہ پروگرام (EVCP) پر اتفاق کیا، جس کے تحت 136 خواتین کو مجموعی طور پر 121 ملین ڈالر ادا کیے گئے۔ تاہم، کچھ متاثرین نے اس پروگرام کا حصہ بننے کے بجائے انڈائیک اور کاہن پر ذاتی طور پر مقدمہ کیا، جس کے نتیجے میں حال ہی میں جائیداد سے مزید 35 ملین ڈالر کی ادائیگی پر اتفاق ہوا ہے۔
انڈائیک پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے بینک کی رپورٹنگ سے بچنے کے لیے بار بار چھوٹی رقوم (7ہزار500 ڈالر) نقد نکلوائیں تاکہ مبینہ طور پر متاثرین اور نئے شکار ڈھونڈنے والوں کو ادائیگی کے لیے ایپسٹین کو فراہم کی جا سکیں۔ غذات ظاہر کرتے ہیں کہ 2011 سے 2019 کے درمیان انڈائیک کو 16 ملین ڈالر اور کاہن کو 10 ملین ڈالر ادا کیے گئے۔
دونوں افراد کے وکلاء کا موقف ہے کہ ان کے موکلین ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں سے لاعلم تھے اور انہوں نے صرف قانونی اور اکاؤنٹنگ کی خدمات فراہم کیں۔