آبنائے ہرمز میں دو دن میں نشانہ بننے والے جہازوں کی تعداد 6 ہوگئی
نشانہ بننے والے جہازوں میں مارشل آئی لینڈز کے جھنڈے تلے چلنے والا آئل ٹینکر ’سیف سی وشنو‘ اور مالٹا کے جھنڈے والا ’زیفیروز‘ شامل ہیں
خلیج: خلیج کے پانیوں میں گذشتہ دنوں متعدد بحری جہازوں پر حملوں کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراق کے قریب خلیجی پانیوں میں کم از کم چھ جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دو آئل ٹینکروں میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور ایک غیر ملکی عملے کے رکن ہلاک ہوا۔
نشانہ بننے والے جہازوں میں مارشل آئی لینڈز کے جھنڈے تلے چلنے والا آئل ٹینکر ’سیف سی وشنو‘ اور مالٹا کے جھنڈے والا ’زیفیروز‘ شامل ہیں، جو عراق سے ایندھن لے کر روانہ ہوئے تھے۔ عراقی بندرگاہ حکام کے مطابق حملے کے بعد دونوں جہازوں میں آگ لگی، تاہم امدادی ٹیموں نے متعدد عملے کے ارکان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
عراقی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد ملک کے آئل ٹرمینلز کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں، تاہم تجارتی بندرگاہیں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حملوں میں دھماکہ خیز مواد سے لیس بغیر عملے کی کشتیوں اور سمندری بارودی سرنگوں کا استعمال کیا گیا۔
اسی دوران مختلف ممالک کے دیگر جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ تھائی لینڈ کے کارگو جہاز پر دو نامعلوم میزائل نما اشیاء سے حملہ ہوا جس سے جہاز کے انجن روم میں آگ لگ گئی اور تین عملے کے ارکان لاپتہ ہو گئے۔ جاپانی کمپنی کے کنٹینر جہاز ’ون مجیسٹی‘ اور ایک اور بحری جہاز ’اسٹار گینتھ‘ کو بھی نامعلوم پروجیکٹائل سے نقصان پہنچا، تاہم عملے کے ارکان محفوظ رہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی شپنگ کمپنیوں کی درخواستوں کے باوجود امریکی نیوی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو فوجی سکیورٹی فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملوں کے بعد عالمی تیل سپلائی اور سمندری تجارت کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں کیونکہ دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس اسی اہم گزرگاہ سے گزرتا ہے۔