لائیو جنگ کا 17 واں روز: دبئی ایئرپورٹ کے قریب آگ- مذاکرات پر ٹرمپ دعویٰ مسترد
ایران جنگ کے حوالے سے تازہ ترین اپ ڈیٹس
اہم نکات
- ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پیر 16 مارچ کو 17 ویں دن میں داخل ہوگئی۔
- پچھلے ایک ہفتے میں ایران کے اسرائیل اور پڑوسی ممالک پر حملے جاری رہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے بھی ایران پر بمباری کی لیکن کوئی بڑا ہدف حاصل نہیں کرسکے۔
- خلیجی ممالک میں متحدہ عرب امارات اور بحرین کو زیادہ نقصان پہنچا۔ پچھلے ایک ہفتے کی اپ ڈیٹس آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔
- امریکہ نے 28 فروری کو بڑے حملے کے ساتھ ایران پر جنگ شروع کی تھی۔ پہلے حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور کئی اہم فوجی کمانڈر شہید ہوگئے۔ تاہم امریکی توقعات کے بر خلاف ایران میں حکومت تبدیل نہیں ہوئی۔ مجتبی خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر چن لیا گیا۔ ایران کی ممتاز فوجی طاقت پاسداران انقلاب مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے۔
- دوسری طرف جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش امریکہ کی توقع سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہوئی۔ ٹرمپ اس اہم آبی گزر گاہ کو کھلوانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
Monday, 16 March 2026 – 08:00 #
دبئی ایئرپورٹ کے قریب آگ کی ویڈیو
دبئی ایئرپورٹ کے قریب آگ کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے۔ فیکٹ چیک سے معلوم ہوا ہے کہ یہ حقیقی ویڈیو ہے۔
⚡️#BREAKING Fires erupt in Dubai following Iranian drone strikes pic.twitter.com/sBDs9JX809
— War Monitor (@WarMonitors) March 16, 2026
Monday, 16 March 2026 – 07:33 #
آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کیلئےکثیر ملکی اتحاد کا امریکی منصوبہ
ٹرمپ انتظامیہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت کیلئے کثیر ملکی اتحاد کا منصوبہ بنالیا۔
امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے رواں ہفتے کے اوائل میں اس منصوبے کا اعلان متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق کئی ممالک نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو سکیورٹی دینے کے لیے اتحاد بنانے پر اتفاق کیا ہے ۔
Monday, 16 March 2026 – 06:35 #
تل ابیب میں کلسٹر بم گرنے سے 3افراد زخمی
اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ تلِ ابیب میں متعدد کلسٹر بموں میں سے ایک کے گرنے سے تین افراد زخمی ہوئے ہیں
Monday, 16 March 2026 – 06:20 #
ایران میں ڈرون سازی کی صنعت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم ایران میں ڈرون سازی کی صنعت کو نشانہ بنا رہے ہیں،
اپنے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 7 ممالک سے آبنائے ہرمز کی سیکورٹی کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ایران سے بات کر رہے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ تیار ہے۔ اسرائیل امریکہ کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Monday, 16 March 2026 – 05:52 #
تہران جنگ بندی مذاکرات کا خواہاں نہیں، عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ تہران جنگ بندی مذاکرات چاہتا ہے، اور کہا ہے کہ ایران اپنا دفاع جاری رکھے گا۔
دوسری جانب امریکا کے توانائی کے وزیر کرس رائٹ نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ “آنے والے چند ہفتوں میں” ختم ہو سکتی ہے۔ ان کے اس بیان کو عالمی منڈیوں کو مطمئن کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی قومی اقتصادی کونسل کے ڈائریکٹر کیوں ہیسٹ نے کہا کہ پینٹاگون کے اندازے کے مطابق یہ جنگ چار سے چھ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور تہران، ہمدان اور اصفہان سمیت کئی شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پیر کی صبح بھی تہران پر حملے کیے گئے۔
ادھر ایران کی جانب سے بھی اسرائیل پر حملے جاری ہیں اور مختلف شہروں میں گرنے والے میزائلوں کے ملبے کے باعث زخمی ہونے اور نقصان کی اطلاعات ملی ہیں، جن میں تل ابیب بھی شامل ہے۔
خطے میں کشیدگی کے دوران راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے بغداد کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں امریکا کا سفارتی مشن موجود ہے۔
اسی دوران خلیجی ممالک نے اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے متعدد ڈرون اور میزائل مار گرانے کی اطلاع دی ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حملوں کے باعث پورے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
Monday, 16 March 2026 – 05:45 #
نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے، ٹرمپ کی وارننگ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر نیٹو اتحادی ایران کے معاملے میں امریکا کی مدد نہ کریں تو اتحاد کو “بہت برا مستقبل” درپیش ہو سکتا ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اتحادیوں کو آبنائے ہرمز کو کھولنے اور اسے محفوظ بنانے کے لیے امریکا کا ساتھ دینا چاہیے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ماضی میں اپنے اتحادیوں کی مدد کی، خصوصاً یوکرائن کے معاملے میں، حالانکہ وہ امریکا سے ہزاروں میل دور ہے۔
انہوں نے کہا “ہم نے ان کی مدد کی، اب دیکھتے ہیں کہ وہ ہماری مدد کرتے ہیں یا نہیں۔ میں طویل عرصے سے کہتا آیا ہوں کہ ہم ان کے لیے موجود ہوں گے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ ہمارے لیے ہوں۔”
امریکی صدر نے برطانیہ کے مؤقف پر بھی مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق جب امریکا نے اتحادیوں سے تعاون کا مطالبہ کیا تو برطانیہ نے فوری طور پر مدد فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی۔
ٹرمپ نے کہا کہ بعد میں جب ایران کی خطرناک صلاحیت کو بڑی حد تک ختم کر دیا گیا تو برطانیہ نے دو بحری جہاز بھیجنے کی پیشکش کی، لیکن ان کے بقول “ہمیں یہ جہاز فتح کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے درکار تھے۔”
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ان کے خیال میں نیٹو اکثر اوقات “یک طرفہ راستہ” بن جاتا ہے جہاں امریکا زیادہ ذمہ داری اٹھاتا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ اس ماہ کے آخر میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی مجوزہ ملاقات مؤخر کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ چین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کھولنے میں کردار ادا کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ خلیجی خطے سے تیل پر زیادہ انحصار کرنے والے ممالک، خصوصاً چین اور یورپ، کو اس آبی راستے کے تحفظ میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
بریکنگ | Monday, 16 March 2026 – 05:40 #
دبئی ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
دبئی میں حکام دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب پیش آنے والے ایک مبینہ ڈرون واقعے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔
دبئی میڈیا آفس کے مطابق ایئرپورٹ کے اطراف میں پیش آنے والے ڈرون سے متعلق واقعے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی جس پر متعلقہ ادارے فوری ردعمل دیتے ہوئے امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
حکام کی جانب سے واقعے کی مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
اہم نکات
- ایران کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پیر 16 مارچ کو 17 ویں دن میں داخل ہوگئی۔
- پچھلے ایک ہفتے میں ایران کے اسرائیل اور پڑوسی ممالک پر حملے جاری رہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے بھی ایران پر بمباری کی لیکن کوئی بڑا ہدف حاصل نہیں کرسکے۔
- خلیجی ممالک میں متحدہ عرب امارات اور بحرین کو زیادہ نقصان پہنچا۔ پچھلے ایک ہفتے کی اپ ڈیٹس آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔
- امریکہ نے 28 فروری کو بڑے حملے کے ساتھ ایران پر جنگ شروع کی تھی۔ پہلے حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور کئی اہم فوجی کمانڈر شہید ہوگئے۔ تاہم امریکی توقعات کے بر خلاف ایران میں حکومت تبدیل نہیں ہوئی۔ مجتبی خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر چن لیا گیا۔ ایران کی ممتاز فوجی طاقت پاسداران انقلاب مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے۔
- دوسری طرف جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش امریکہ کی توقع سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہوئی۔ ٹرمپ اس اہم آبی گزر گاہ کو کھلوانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
دبئی ایئرپورٹ کے قریب آگ کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے۔ فیکٹ چیک سے معلوم ہوا ہے کہ یہ حقیقی ویڈیو ہے۔
⚡️#BREAKING Fires erupt in Dubai following Iranian drone strikes pic.twitter.com/sBDs9JX809
— War Monitor (@WarMonitors) March 16, 2026
ٹرمپ انتظامیہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت کیلئے کثیر ملکی اتحاد کا منصوبہ بنالیا۔
امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے رواں ہفتے کے اوائل میں اس منصوبے کا اعلان متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق کئی ممالک نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو سکیورٹی دینے کے لیے اتحاد بنانے پر اتفاق کیا ہے ۔
اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ تلِ ابیب میں متعدد کلسٹر بموں میں سے ایک کے گرنے سے تین افراد زخمی ہوئے ہیں
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم ایران میں ڈرون سازی کی صنعت کو نشانہ بنا رہے ہیں،
اپنے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 7 ممالک سے آبنائے ہرمز کی سیکورٹی کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ایران سے بات کر رہے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ تیار ہے۔ اسرائیل امریکہ کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ تہران جنگ بندی مذاکرات چاہتا ہے، اور کہا ہے کہ ایران اپنا دفاع جاری رکھے گا۔
دوسری جانب امریکا کے توانائی کے وزیر کرس رائٹ نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ “آنے والے چند ہفتوں میں” ختم ہو سکتی ہے۔ ان کے اس بیان کو عالمی منڈیوں کو مطمئن کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی قومی اقتصادی کونسل کے ڈائریکٹر کیوں ہیسٹ نے کہا کہ پینٹاگون کے اندازے کے مطابق یہ جنگ چار سے چھ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور تہران، ہمدان اور اصفہان سمیت کئی شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پیر کی صبح بھی تہران پر حملے کیے گئے۔
ادھر ایران کی جانب سے بھی اسرائیل پر حملے جاری ہیں اور مختلف شہروں میں گرنے والے میزائلوں کے ملبے کے باعث زخمی ہونے اور نقصان کی اطلاعات ملی ہیں، جن میں تل ابیب بھی شامل ہے۔
خطے میں کشیدگی کے دوران راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے بغداد کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں امریکا کا سفارتی مشن موجود ہے۔
اسی دوران خلیجی ممالک نے اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے متعدد ڈرون اور میزائل مار گرانے کی اطلاع دی ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حملوں کے باعث پورے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر نیٹو اتحادی ایران کے معاملے میں امریکا کی مدد نہ کریں تو اتحاد کو “بہت برا مستقبل” درپیش ہو سکتا ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اتحادیوں کو آبنائے ہرمز کو کھولنے اور اسے محفوظ بنانے کے لیے امریکا کا ساتھ دینا چاہیے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ماضی میں اپنے اتحادیوں کی مدد کی، خصوصاً یوکرائن کے معاملے میں، حالانکہ وہ امریکا سے ہزاروں میل دور ہے۔
انہوں نے کہا “ہم نے ان کی مدد کی، اب دیکھتے ہیں کہ وہ ہماری مدد کرتے ہیں یا نہیں۔ میں طویل عرصے سے کہتا آیا ہوں کہ ہم ان کے لیے موجود ہوں گے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ ہمارے لیے ہوں۔”
امریکی صدر نے برطانیہ کے مؤقف پر بھی مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق جب امریکا نے اتحادیوں سے تعاون کا مطالبہ کیا تو برطانیہ نے فوری طور پر مدد فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی۔
ٹرمپ نے کہا کہ بعد میں جب ایران کی خطرناک صلاحیت کو بڑی حد تک ختم کر دیا گیا تو برطانیہ نے دو بحری جہاز بھیجنے کی پیشکش کی، لیکن ان کے بقول “ہمیں یہ جہاز فتح کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے درکار تھے۔”
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ان کے خیال میں نیٹو اکثر اوقات “یک طرفہ راستہ” بن جاتا ہے جہاں امریکا زیادہ ذمہ داری اٹھاتا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ اس ماہ کے آخر میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی مجوزہ ملاقات مؤخر کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ چین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کھولنے میں کردار ادا کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ خلیجی خطے سے تیل پر زیادہ انحصار کرنے والے ممالک، خصوصاً چین اور یورپ، کو اس آبی راستے کے تحفظ میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
دبئی میں حکام دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب پیش آنے والے ایک مبینہ ڈرون واقعے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔
دبئی میڈیا آفس کے مطابق ایئرپورٹ کے اطراف میں پیش آنے والے ڈرون سے متعلق واقعے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی جس پر متعلقہ ادارے فوری ردعمل دیتے ہوئے امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
حکام کی جانب سے واقعے کی مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔