کابل اور ننگر ہار پر پاک فوج کے تباہ کن حملے۔ گولہ بارود کے بڑے ذخائر فلک بوس شعلوں میں تبدیل

افغان طالبان کی عسکری تنصیبات،دہشت گردی کے معاون ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارت اطلاعات

               
March 17, 2026 · اہم خبریں, قومی

 

آپریشن غضب للحق میں پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے جاری ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افواج نے 16 مارچ کی شب کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں پاک افواج نے کابل میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو مؤثر انداز میں تباہ کیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق فضائی حملےکے بعد سیکنڈری ڈیٹونیشن کی وجہ سے بلند ہوتے شعلے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ بارود کا بہت بڑا ذخیرہ تھا۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا ڈرگ اسپتال کو نشانہ بنانےکا بیان مضحکہ خیز ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ننگر ہار میں بھی کارروائی کرتے ہوئے پاک افواج نے 4 مقامات پر افغان طالبان کی ملٹری تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ننگر ہار میں ملڑی تنصیبات سے ملحقہ لاجسٹک انفرااسٹرکچر کو تباہ کیا گیا، فضائی کارروائیوں میں ایمونیشن، ٹیکنیکل انفرااسٹرکچر کو بھی تباہ کیا گیا۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔

وفاقی وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ پاکستان نے نہایت درستگی کے ساتھ کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کی عسکری تنصیبات کونشانہ بنایا لہٰذا افغان طالبان رجیم کے ترجمان کا بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہونے کی بنا پر مسترد کرتے ہیں۔

وزارت اطلاعات کے مطابق طالبان رجیم کے نام نہاد ترجمان کا دعویٰ حقائق کے برعکس ہے اور طالبان رجیم کے دعوے کا مقصد عوامی رائے کو گمراہ کرنا ہے۔

وزارت اطلاعات نے بتایاکہ 16 مارچ کی رات پاکستان نے کابل، ننگرہار میں دہشتگردی کے معاون ڈھانچے کو نشانہ بنایا، انفرااسٹرکچر میں تکنیکی آلات کے ذخیرے اور اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر شامل تھے، یہ اسلحہ بے گناہ پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہا تھا۔

وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ ذخیرہ شدہ گولہ بارود کے دھماکے دہشت گرد پراکسی کے زیرِ استعمال اسلحے کی موجودگی ظاہر کرتے ہیں، پاکستان کی کارروائیاں نہایت درست اور محتاط ہوتی ہیں تاکہ کولیٹرل نقصان نہ ہو، ان اہداف کو منشیات بحالی مرکز قرار دینا جذبات کو بھڑکانے کی کوشش ہے