افزودہ ایرانی یورینیم قبضے میں لینے کے لیے تاریخ کاسب سے بڑا کمانڈو آپریشن کرنے کی تیاری
امریکہ کا ماننا ہے کہ اصفہان کی ایٹمی تنصیب میں رسائی کا ایک نہایت تنگ راستہ ہے جس کے ذریعے موادنکالا جا سکتا ہے
اصفہان کی ایٹمی تنصیبات
ایران سے افزوہ یورینیم قبضے میں لینے کے لیے تاریخ کا سب سے بڑا کمانڈوآپریشن کرنے کی امریکی اور اسرائیلی تیاریوں کا انکشاف ہواہے۔امریکی جریدہ’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نےسیکورٹی ماہرین کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ایرانی افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر قبضہ کرنے کے لیے،اصفہانی کی ایٹمی تنصیب پر ایک فوجی آپریشن کی ضرورت ہوگی جو تاریخ کا سب سے بڑا اسپیشل فورسز آپریشن ہوگا۔
نیٹو کے سابق کمانڈر جیمز اسٹاوِریڈِس نے بتایاکہ یورینیم پر قبضہ کرنے کے لیے ایک بڑے آپریشن کی ضرورت ہوگی،اور یہ تاریخ کی سب سے بڑی اسپیشل آپریشنز فورسزہو سکتی ہیں۔ روزنامے نے سابق فوجی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ اس مقام پر1ہزارسے زائد فوجی اہلکاروں کی موجودگی لازمی ہوگی۔اخبار کے مطابق، جنگی دستوں کو بیرونی حدود کو محفوظ بنانا ہوگا ۔ انجینئرز ٹنوں ملبے کی کھدائی اور بارودی سرنگوں کے جال (booby traps) کوتلاش کریں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سامان کی ترسیل اور برآمد شدہ مواد کو ملک سے باہر لے جانے کے لیے مقامی ہوائی اڈے کی ضرورت پڑےگی، اور اگر کوئی دستیاب نہ ہوا تو ایک عارضی ہوائی اڈہ قائم کرنا پڑے گا۔مزید برآں، حملہ آور فورسز کو ڈرونز اور میزائلوں سے خطرہ ہوگا،ایسے حملوں کو روکنے کے لیے زمینی افواج اور طیاروں کی ضرورت ہوگی۔رپورٹ میں مواد کو ہٹانے کے بجائے اسے پتلا کرنے یا تباہ کرنے کے امکان کا بھی ذکر کیا گیا ہے، اگرچہ اس طرح علاقے میں آلودگی پھیلنے کا خطرہ ہوگا۔
ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل گروسی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کا تقریباً نصف حصہ اصفہان کی ایٹمی تنصیب میں ایک سرنگ کے کمپلیکس میں ذخیرہ کیا گیا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں آنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کا ماننا ہے کہ وہاں ایک نہایت تنگ رسائی کا راستہ ہے جس کے ذریعے اس مواد کو ممکنہ طور پر نکالا جا سکتا ہے۔
گزشتہ جون میں جب امریکی اور اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے ایران کی تین اہم ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی تھی، تو خیال کیا جاتا تھا کہ تہران کے پاس 60 فیصد افزودہ یورینیم کا تقریباً 440 کلوگرام ذخیرہ موجود تھاجو ہتھیاروں کے درجے کے مواد سے محض ایک قدم دور ہے اور تقریباً دس ایٹمی بموں کے لیے کافی ہے۔ مزیدتقریباً 200 کلوگرام، جو 20 فیصد افزودہ تھا، بھی ہونے کا امکان تھا۔ یادرہے کہ ہتھیاروں کے لیے موزوں یورینیم 90 فیصد افزودہ ہوتا ہے۔
اتوار کے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سی بی ایس (CBS) کو بتایاتھاکہ ہماری ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا گیا، اور سب کچھ ملبے تلے دبا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا اس مواد کو نکالنے کا کوئی منصوبہ نہیں، لیکن وہ حملوں کی زد میں رہتے ہوئے اس ذخیرے کے مستقبل کے بارے میں مذاکرات کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ۔دوسری طرف ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جب گزشتہ ہفتے پوچھا گیا کہ کیا ذخیرہ شدہ یورینیم پر قبضہ کرنے کا کوئی منصوبہ ہے، تو انہوں نے فاکس نیوز ریڈیو کو بتایاکہ نہیں، بالکل نہیں۔انہوں نے کہا، ہم اس پر توجہ نہیں دے رہے۔ لیکن کسی وقت ہم کربھی سکتے ہیں۔ فی الحال ہماری توجہ ان کے میزائلوں اور ڈرونز کو نیست و نابود کرنے پر ہے۔
ایران کے ایٹمی پروگرام پر طویل عرصے سے جاری تنازع 28 فروری کو فوجی تصادم میں بدل گیا، جس میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے اور اسلامی جمہوریہ نے پورے مشرق وسطیٰ میں حملوں کے ساتھ جواب دیا۔
تہران کا موقف ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام خالصتاً شہری مقاصد کے لیے ہے۔ تاہم، جون کی جنگ سے پہلے، ایران یورینیم کو ان سطحوں تک افزودہ کر رہا تھا جو کسی بھی پرامن استعمال کے لیے ضروری مقدار سے کہیں زیادہ تھیں، اور وہ مسلسل بین الاقوامی انسپکٹرز کو اپنی تنصیبات کی جانچ پڑتال سے روکتا رہا ۔ اسرائیل نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے اقدامات کر رہا تھا۔