حیرت انگیز ایرانی حکمت عملی ’’موزیک ڈیفنس‘‘ کیا ہے اوراسے کس نے تخلیق کیا؟
پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرنے نقشہ دیکھااورکہا: ’’ہمیں ایک فوج نہیں، ہزاروں چھوٹی فوجیں چاہئیں‘‘
ایران کی فوج کبھی لڑنا بند نہیں کرسکتی، اگر تمام کمانڈر بھی مارے جائیں پھربھی، حتی کہ اگر امریکہ ایران پر ایٹم بم برسا دے تو بھی یہ لڑائی ختم نہیں ہوگی۔اس کے پیچھے ایک حیرت انگیز دفاعی حکمت عملی ہے۔ اور یہ اسی کی کہانی ہے۔
’’ امت ڈیجیٹل‘‘ کے گروپ ایڈیٹر سجادعباسی نے تازہ وی لاگ میں اس کہانی کوبیان کیا ہے۔
سال 2003 تھا۔ تہران کے فوجی دفاتر میں ایرانی جرنیل ٹی وی اسکرینوں پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ صدام حسین کی وہ فوج، جسے دنیا کی طاقتور ترین افواج میں شمار کیا جاتا تھا، امریکی حملے کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ محض چند ہفتوں میں سقوط بغداد ہو گیا کیونکہ جیسے ہی مرکزی کمانڈ تباہ ہوئی، پوری عراقی فوج تتر بتر ہوگئی۔ایرانی جرنیلوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ پیغام واضح تھا: ’’اگر ہم نے بھی صدام کی طرح روایتی طریقے سے جنگ لڑی، تو ہمارا انجام بھی یہی ہوگا‘‘۔
کچھ سال گزرے، اور پاسدارانِ انقلاب کی کمان محمد علی جعفری کے ہاتھوں میں آئی۔ وہ روایتی جرنیل نہیں تھے۔ انہوں نے نقشے پر ایران کو دیکھا اور ایک عجیب بات کہی: ’’ہمیں ایک فوج نہیں، ہزاروں چھوٹی فوجیں چاہئیں‘‘!انہوں نے ایران کو ایک موزیک کی طرح دیکھا۔ جیسے ایک خوبصورت تصویر چھوٹے چھوٹے رنگین پتھروں سے مل کر بنتی ہے، ویسے ہی انہوں نے ایران کے ہر صوبے کو ایک خود مختار قلعے میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔ اسے نام دیا گیا’’موزیک ڈیفنس‘‘یا فارسی میں دفاع موزائیکی۔
اس قصے میں اگلا موڑ سمندر کی لہروں پر تھا۔ ایران جانتا تھا کہ وہ امریکہ کے بڑے بحری بیڑوں کا مقابلہ بڑے جہازوں سے نہیں کر سکتا۔ چنانچہ انہوں نے ’’موزیک ‘‘کا فارمولا سمندر پر بھی لگایا۔انہوں نے سینکڑوں چھوٹی، تیز رفتار کشتیاں بنائیں جو میزائلوں سے لیس تھیں۔ ان کا فلسفہ یہ تھا کہ ایک بڑا شارک (امریکی جہاز) ایک چھوٹی مچھلی کو تو کھا سکتا ہے، لیکن اگر ہزاروں شہد کی مکھیاں (چھوٹی کشتیاں) ایک ساتھ حملہ کر دیں، تو شارک کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا‘‘۔
مزید پڑھیں:Missile cities پر قائم ایرانی حکمت عملی۔کیا امریکہ نے جنگ سمیٹنے کا فیصلہ کرلیا؟
موزیک ڈیفنس کی سب سے دلچسپ اور خوفناک بات یہ تھی کہ اگر تہران پر ایٹمی حملہ بھی ہو جائے اور ملک کا صدر یا سپہ سالار نہ رہے، تب بھی جنگ ختم نہیں ہوگی۔ایران کے 31 صوبے ہیں۔ ہر صوبے کے کمانڈر کو یہ اختیار دیا گیا کہ اگر تمہارا رابطہ مرکز سے ٹوٹ جائے، تو سمجھ لینا کہ جنگ شروع ہو چکی ہے۔ تمہیں کسی کے حکم کا انتظار نہیں کرنا، بس اپنے علاقے میں موجود دشمن کو مارنا ہے۔اس حکمت عملی نے دشمن کے لیے مرکزکو نشانہ بنا کر فتح حاصل کرنا ناممکن بنا دیا۔ ایران نے زمین کے سینے کو چیر کر وہاں ’’میزائل شہر‘‘ بنا دیے۔ سینکڑوں فٹ گہری سرنگوں میں ہزاروں میزائل اور ڈرونز چھپا دیے گئے۔ یہ وہ ’’موزیک‘‘کے ٹکڑے تھے جو تب تک باہر نہیں نکلتے جب تک شکاری جال میں نہ پھنس جائے۔
باہر کی دنیا میں انہوں نے ’’بسیج‘‘ (عوامی رضاکاروں) کا جال بچھایا۔ ہر گلی، ہر محلے میں ایک ایسا سپاہی موجود تھا جو عام شہری لگتا تھا لیکن ضرورت پڑنے پر وہ موزیک ڈیفنس کا ایک مہلک حصہ بن جاتا۔
امریکہ نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا اور پہلی ہی کارروائی میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور اہم فوجی کمانڈر مارے گئے۔ یہیں سے دفاع موزائکی شروع ہو گیا۔ موزیک ڈیفنس دراصل’’بقا کی جنگ‘‘ کا دوسرا نام ہے۔ یہ ایران کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ ایک سپر پاور کے خلاف براہِ راست جنگ جیتے بغیر بھی اسے اتنا نقصان پہنچا دے کہ دشمن جنگ جاری رکھنے کا ارادہ ترک کر دے