امریکہ اتحادی ممالک کے جہازوں کو اس اہم سمندری راستے سے گزرنے سے روک دیا گیا
March 18, 2026 ·
بام دنیا
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کے لیے نئے انتظامات اور قواعد بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انہوں نے اپنے ملک کے اس فیصلے کا دفاع کیا جس کے تحت امریکہ اور اسرائیل کے اتحادی ممالک کے جہازوں کو اس اہم سمندری راستے سے گزرنے سے روک دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا، “ہماری نظر میں یہ آبی گزرگاہ ایران کے بالکل قریب واقع ہے، اس لیے ہم فطری طور پر اپنے دشمنوں کو اس راستے کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اسی وقت اس کے اردگرد جنگ جاری ہے، اور ظاہر ہے کہ عدم تحفظ کی وجہ سے بہت سے جہاز اور ممالک اس راستے کو استعمال نہیں کرنا چاہتے۔”
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد اس تنگ آبی گزرگاہ کے لیے ایک نیا پروٹوکول تیار کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا میری رائے میں ہمیں جنگ کے بعد مستقبل میں آبنائے ہرمز اور اس سے گزرنے والے جہازوں کے لیے نئے انتظامات تیار کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ واضح قوانین کے تحت اس آبی راستے میں پرامن جہاز رانی مستقل طور پر برقرار رکھی جا سکے، اور اس میں ایران اور خطے کے مفادات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔”