امریکہ کی ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی سفارتی پیش رفت میں رکاوٹ قرار
ناکہ بندی نے صدرٹرمپ کے لیے الٹا نقصان دہ ثابت کیا صورتحال مزید خراب ہو ئی۔
ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ’سفارتی پیش رفت میں رکاوٹ‘ قرار دی گئی ہے۔
کوئنسی انسٹی ٹیوٹ فار ریسپانسبل اسٹیٹ کرافٹ کے ایگزیکٹو نائب صدر ٹریٹا پارسی کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے الٹا نقصان دہ ثابت کیا ہے اور اس سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
انہوں نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “مذاکرات جاری تھے اور ناکہ بندی کے باوجود وہ جاری رہ سکتے تھے۔
ان کے مطابق “اس ناکہ بندی کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ ایرانی مذاکرات کی میز پر موجود ہیں۔ بلکہ یہ اقدام زیادہ تر سفارتی پیش رفت میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
پارسی نے کہا کہ ٹرمپ نے ناکہ بندی سے قبل سفارت کاری کے ذریعے اپنا سب سے بڑا فائدہ حاصل کر لیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جیسے ہی انہوں نے جنگ بندی کروائی، ان پر دباؤ کم ہو گیا، کیونکہ جنگ اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ رک گیا تھا۔ اگر وہ اسی صورتحال میں رہتے اور وقت کو اپنے حق میں استعمال کرتے تو ایران کے مقابلے میں وہ زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہوتے، کیونکہ ایران اپنی بنیادی خواہش یعنی پابندیوں میں نرمی حاصل نہیں کر سکا تھا۔
ان کے مطابق ناکہ بندی کے بعد ٹرمپ نے عالمی منڈی سے مزید تیل کم کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ اب جنگ بندی کے دوران تیل کی قیمتیں جنگ کے دوران سے بھی زیادہ ہیں۔ یہ تمام معاشی اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ ناکہ بندی سے ٹرمپ کی صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہو رہی ہے۔