پاکستان کا ماحولیاتی تحفظ کے لیے بڑا قدم ،سپارکو کی جانب سے ‘اسپیس 4 کلائیمیٹ’ کا آغاز

سپارکو کا یہ نیا نظام فضا میں موجود آلودگی پھیلانے والے عناصر بشمول ایروسولز (Aerosols)، سلفر آکسائیڈز اور نائٹروجن آکسائیڈز کی کڑی نگرانی کرے گا۔

               
March 22, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی: پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے اور قومی سطح پر ماحولیاتی لچک پیدا کرنے کے لیے ایک جدید ترین منصوبے “اسپیس 4 کلائیمیٹ” (Space4Climate) کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

جدید جیو اے آئی کلائیمیٹ آبزرویٹری

اس اقدام کا سب سے اہم پہلو ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جسے جیو اے آئی (GeoAI) کلائیمیٹ آبزرویٹری کا نام دیا گیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم سیٹلائٹ ڈیٹا، جغرافیائی تجزیات اور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو یکجا کر کے ایسی معلومات فراہم کرے گا جو پالیسی سازوں، محققین اور مقامی کمیونٹیز کے لیے انتہائی کارآمد ثابت ہوں گی۔

فضائی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں کی نگرانی

سپارکو کا یہ نیا نظام فضا میں موجود آلودگی پھیلانے والے عناصر بشمول ایروسولز (Aerosols)، سلفر آکسائیڈز اور نائٹروجن آکسائیڈز کی کڑی نگرانی کرے گا۔ اس کے علاوہ، عالمی تپش کا باعث بننے والی گرین ہاؤس گیسوں، خاص طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین کے اخراج پر بھی نظر رکھی جائے گی۔

یہ پلیٹ فارم پاکستان کے قدرتی وسائل جیسے کہ تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز اور سکڑتے جنگلات کی مانیٹرنگ۔ دریاؤں کے بہاؤ اور ساحلی علاقوں کی تبدیلیوں کا مشاہدہ۔

سیلاب، خشک سالی، ہیٹ ویوز اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOFs) جیسے ممکنہ حادثات کی پیشگی اطلاع دینا شامل ہیں۔

سپارکو حکام کے مطابق، خلائی ٹیکنالوجی اور زمینی حقائق (In-situ data) کو ملا کر تیار کردہ یہ نظام پاکستان کے موسمیاتی ایجنڈے کو عالمی کوششوں کے ہم آہنگ کرے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں مدد ملے گی بلکہ ملک میں پائیدار ترقی کے عمل کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔