ایران پر دوبارہ حملے آئندہ ہفتے تک شروع ہو سکتے ہیں، نیو یارک ٹائمز

حملے کی تیاریوں سے متعلق رپورٹس اور ایرانی عہدے داروں کے جارحانہ بیانات,محسن نقوی کا ’غیر اعلانیہ‘ دورہ ایران بھی توجہ کا مرکز ،رپورٹ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

نیویارک: امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملے کی تیاریوں سے متعلق رپورٹس اور ایرانی عہدے داروں کے جارحانہ بیانات کے بعد خطے میں دوبارہ جنگ شروع ہونے کے خدشات زور پکڑ رہے ہیں اور ایسے میں پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا ’غیر اعلانیہ‘ دورہ ایران بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

امریکی جریدے نیو یارک ٹائمز نے مشرق وسطیٰ کے دو نامعلوم عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر دوبارہ حملے کے امکان پر غور کر رہے ہیں اور اس کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ جریدے کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے آئندہ ہفتے تک شروع ہو سکتے ہیں۔

ان دونوں عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کی یہ تیاریاں جنگ بندی کے بعد اب تک کی سب سے وسیع فوجی تیاریاں ہیں۔

بعض ایرانی عہدیداروں نے بھی امریکہ اور خلیجی ممالک کو دوبارہ جنگ شروع ہونے کے خدشے کے پیش نظر خبردار کیا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے جنگ کے دوران خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’حالیہ جنگ میں سینٹکام (امریکی سینٹرل کمانڈ) کے کرائے کے ٹھکانوں پر ہمارا جوابی حملہ انتہائی محدود تھا لیکن یہ ضبط ہمیشہ کے لیے نہیں رہے گا۔‘

اُنھوں نے مزید کہا کہ ایران نے برسوں تک ان ممالک کو دوست اور بھائی کے طور پر دیکھا، لیکن انھوں نے اپنی آزادی پہلے ہی بیچ کر اپنے ملک اور گھروں کو فلسطین اور ایران کے دشمنوں کے حوالے کر دیا۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ سے وابستہ میڈیا آؤٹ لیٹ ’نور نیوز‘ نے ایک نامعلوم اعلیٰ فوجی عہدیدار کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو ’وہ اہداف، جنھیں 40 روزہ جنگ کے دوران بعض وجوہات کی بنا پر نشانہ نہیں بنایا گیا تھا، اس بار ترجیحی آپریشنل فہرست میں ہوں گے۔

دوسری جانب امریکی وزیرِ دفاع نے اس ہفتے امریکی کانگریس کو بتایا کہ پینٹاگون کے پاس مختلف حالات کے لیے منصوبے موجود ہیں، جن میں ضرورت پڑنے پر جنگ دوبارہ شروع کرنا اور خطے سے فوج کم کرنا یا واپس بلانا بھی شامل ہے۔