مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی صورتحال،دواڑا اورکمبل

عالمی معیشت، توانائی کی حفاظت اور خوراک کی قلت جیسے حساس مسائل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے

               
March 24, 2026 · کالم

از: ڈاکٹر ظفر اقبال

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نہ صرف فوجی تصادم کی ایک نئی جہت اختیار کر چکی ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی حفاظت اور خوراک کی قلت جیسے حساس مسائل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر اور سکیورٹی امور کے ماہر رابرٹ اے پیپ  کے مطابق، جنگ کے پہلے تین ہفتوں نے ایران کو کمزور کرنے کی بجائے اسے زیادہ خطرناک بنا دیا ہے۔

نئی قسم کی طاقت

پروفیسر پیپ  کی تحقیق بتاتی ہے کہ محض 22 دنوں میں ایران نے تین اہم محاذوں پر ایسی گرفت حاصل کر لی جسے وہ آسانی سے نہیں چھوڑے گا:

پہلا — تیل پر پابندیوں میں نرمی کے بعد ایران اور روس نے تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کا تیل چینی بینکوں کے ذریعے فروخت کیا۔

دوسرا — ایران اب عالمی کھاد (فرٹیلائزر) کی تقریباً تیس فیصد پیداوار پر کنٹرول رکھتا ہے۔

تیسرا — ان دونوں عناصر کے ذریعے ایران نے عالمی تیل اور خوراک کی قیمتوں پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔

یہ محض فوجی طاقت نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست کی ایک نئی قسم ہے — جسے انگریزی میں “geopolitical leverage” کہتے ہیں۔ اور اس قوت کو حاصل کرنے کے بعد ایران پیچھے ہٹنے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔

جنگ کی نئی تعریف

ماہرینِ امورِ جنگ میں اب ایک نیا فرق سامنے آیا ہے۔ وہ “عارضی خلل” (disruption) اور “مستقل نقصان” (damage) کے درمیان فرق کرتے ہیں۔

  • خللوہ ہے جو ہفتوں میں بحال ہو سکے۔
  • نقصانوہ ہے جو مہینوں تک قائم رہے اور صورتحال کو ناقابلِ واپسی بنا دے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس مرحلے کو پہنچ چکے ہیں جہاں یہ خلل نقصان میں تبدیل ہو چکا ہے؟ زمینی افواج کا استعمال اس تبدیلی کا سب سے واضح اشارہ ہو گا۔
“جیسے کو تیسا”

ٹِٹ فار ٹَٹ” سے آگے

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ حالیہ کشیدگی کا سلسلہ محض اسرائیل اور ایران کے درمیان جوابی حملوں تک محدود نہیں:

  • اسرائیل نے نطنز (جوہری تنصیب) کو نشانہ بنایا
  • ایران نے دیمونا (اسرائیلی جوہری مقام) کو جواب دیا
  • ٹرمپ انتظامیہ نے بوشہر کو دھمکی دی

لیکن اب امریکہ ایک ایسے فیصلہ کن مقام پر ہے جہاں غلط اقدام ناگزیر شکست کا سبب بن سکتا ہے۔ زیادہ تر تجزیہ کار ابھی اس حقیقت کو نہیں سمجھ پائے — یہ محض ایک اور “ٹِٹ فار ٹَٹ” یا ” جیسے کو تیسا”  نہیں ہے۔

الفاظ کا کھیل اور غیر یقینی صورتحال

ایک طرف امریکی انتظامیہ کی طرف سے “witch” جیسے الفاظ کا استعمال ہے تو دوسری طرف ٹرمپ کا یہ اعلان کہ ایران کے توانائی مراکز پر حملے پانچ روز کے لیے ملتوی کیے جا رہے ہیں۔ مگر اسی رات بوشہر پر حملے ہوتے ہیں اور اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

یہ غیر یقینی صورتحال — جسے VUCA (Volatility, Uncertainty, Complexity, Ambiguity) کہا جاتا ہے — خود اپنی مثال بن چکی ہے۔ تاہم جو چیز واضح ہو رہی ہے وہ ایران کی مستعدی اور تیزی سے ردِ عمل ظاہر کرنے کی صلاحیت ہے۔

صورتحال سے نکلنے  یا آف ریمپ کا سوال

ماہرینِ امورِ جنگ کے سامنے اب تین مشکل ترین سوالات ہیں:

پہلا — کیا جنگ سے نکلنے کا کوئی راستہ (off-ramp) باقی ہے؟

دوسرا — اگر حوثی (Houthis) باضابطہ طور پر اس تنازع میں شامل ہو گئے تو کیا ہو گا؟

تیسرا — کیا امریکہ واقعی اس صورتحال پر قابو پا سکتا ہے جب زمینی افواج میدان میں اتریں گی؟

ان سوالات کے جوابات واضح نہیں ہیں، لیکن یہی وہ سوالات ہیں جو سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
اس موقع پر ایک ایسی ہے تزویراتی  دوراہے ( ڈائیلیما) والی صورتحال کے حوالے سے ایک   دلچسپ واقعہ بر محل ہوگا:
ہمالیہ کے نچلے درجے سے میدان میں بدلتی زمینی صورتحال کچھ ایسی ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے ان اولین میدانوں اور شمال کے میدانوں میں ہزاروں برساتی پانی کے ندی نالے آتے ہیں اور دریاؤں کی ٹریبیوٹریز (معاون دریا) بنتے جاتے ہیں۔ ضلع گجرات میں کشمیر سے آنے والے ایسے کئی نالے ہیں “دواڑے”، بھبر نالے اور بھنڈر نالے کے نام سے معروف ہیں۔ سیلاب کے زمانے میں بالائی علاقوں سے پانی منہ زور ریلوں کے سلسلے میں تبدیل ہو جاتا اور اپنے ساتھ اوپر سے چارپائیاں، بکریاں، برتن اور کمبل بھی لے آتا۔

اولین میدانی علاقوں کے بعض پرجوش نوجوان ان چیزوں کو دریا برد ہونے سے بچانے کے لیے کود جاتے۔ انہیں کمبلوں میں سے ایک کمبل کے لیے ایک پرجوش طالبِ   کمبل کودا، لیکن جب کافی دیر تک وہ کمبل لانے میں کامیاب نہ ہوا اور باہر کھڑے مجمع کو محسوس ہوا کہ “طالب” مشکل میں ہے اور صورتحال گھمبیر ہوتی جا رہی ہے، تو کنارے کھڑے لوگوں نے پکارنا شروع کیا: “کمبل چھوڑ دو اور خود باہر آ جاؤ!”

“طالبِ کمبل” نے سانس سنبھالتے ہوئے کہا: “میں تو چھوڑ رہا ہوں، مگر کمبل نہیں چھوڑ رہا”۔۔۔ او کما قال۔ اور دروغ بر گردن دواڑا

آئندہ کیا؟

آنے والے دنوں میں دو چیزیں خاص طور پر دیکھنے کے قابل ہوں گی:

  1. زمینی کارروائی کا فیصلہ — یہ طے کرے گا کہ کشیدگی نیا عالمی بحران بنتی ہے یا روکی جا سکتی ہے۔
  2. ایران کے اگلے اقدامات — کیا وہ اپنی نئی حاصل کردہ معاشی لیوریج کا استعمال جاری رکھے گا یا کوئی اور راستہ اختیار کرے گا؟

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ جنگ روایتی فوجی تصادم سے آگے نکل کر معاشی لیوریج، توانائی کی سیاست اور عالمی خوراک کی حفاظت کے سنگم پر پہنچ چکی ہے۔ ایران نے خود کو ایک ایسے مقام پر کھڑا کر لیا ہے جہاں وہ نہ صرف جوہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے بلکہ عالمی معیشت کو متاثر کرنے کی صلاحیت کے ساتھ گفتگو کر رہا ہے۔

آئندہ چند روز میں آنے والے فیصلے ہی یہ طے کریں گے کہ یہ کشیدگی ایک نیا عالمی بحران بنتی ہے یا پھر کسی مشکل “آف ریمپ” تک جانے کا موقع ملتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر ظفر اقبال ہیلتھ کیئر مینجمنٹ، کوالٹی اور مریض کی حفاظت کے شعبے میں تربیت اور عملی خدمات سے وابستہ ہیں۔ وہ اقدار کی بنیاد پر میڈیکل پریکٹس کے فروغ کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ صحت عامہ کے ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ، بین الاقوامی تعلقات، ماحولیات، اقبالیات، سیاسی، ادبی اور قومی امور بھی ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔