تلہ گنگ میں حاملہ اسکول ٹیچر کو قتل کرنے والے درندے کو 2 بار سزائے موت

مجرم کو عمر قید اور7 لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ10 سال کی اضافی قید کی سزا بھی سنائی گئی۔

               
March 25, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

چکوال : ایڈیشنل سیشن جج تلہ گنگ راجہ محمد اجمل خان نے سنگوالہ کے ایک شخص کو حاملہ اسکول ٹیچر کو زیادتی کی کوشش کے بعد خنجر کے وار سے قتل کرنے کے الزام میں دو بار سزائے موت سنادی ہے۔ آج 25 مارچ کو سنائے گئے فیصلے میں عمر قید اور سات لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ دس سال کی اضافی قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

سنگوالہ گاؤں کی 35 سالہ خاتون گورنمنٹ پرائمری سکول ٹمن میں ٹیچر تھی۔ اس کی دو چھوٹی بیٹیاں تھیں، ایک 6 سال کی اور چھوٹی چار سال کی جبکہ اس کا شوہر پاک فوج میں سپاہی تھا۔ شوہر کی راولپنڈی میں تعنیاتی کی وجہ سے خاتون کے والد اپنی بیٹی کے گھر سوتے تھے۔

مجرم محمد شہزاد مقتولہ کا پڑوسی تھا جو اس کا پیچھا کرتا تھا۔ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) اور عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم خنجر سے مسلح گزشتہ سال 2 جون کو رات گئے دیوار پھلانگ کر مقتولہ کے گھر گھس گیا۔ دیوار سے چھلانگ لگنے کی آواز سے اپنی بیٹیوں کے ہمراہ صحن میں سوئی ہوئی خاتون جاگ گئی۔

مجرم نے خاتون کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی اور اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے مزاحمت کی تو وہ اسے جان سے مار دے گا۔ لیکن اپنی عزت بچانے کے لیے خاتون نے نہ صرف مزاحمت کی بلکہ مدد کے لیے پکارا۔ بیٹھک میں سوئے ہوئے اس کے والد بھی جاگ گئے اور وہ تیزی سے اپنی بیٹی کی طرف بڑھے جیسے ہی جنسی درندے نے خاتون کے باپ کو آتے دیکھا، اس نے خاتون کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا اور خود بھاگنے میں کامیاب ہوگیا۔ خاتون کو فوری طور پر مقامی ہسپتال لے جایا گیا جہاں سے اس کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث اسے راولپنڈی ریفر کر دیا گیا۔ اگلے دن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ مقتولہ کے پیٹ میں ساڑھے چار ماہ کا بچہ تھا۔

پولیس نے ملزم کے خلاف قتل، اسقاط حمل، عصمت دری کی کوشش اور گھر میں گھسنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا تھا۔

مقتولہ کے والد کی طرف سے مقدمہ کی پیروی ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ملک ظہیر احمد صدقال نے کی جبکہ اس مقدمہ کی تفتیش سب انسپیکٹر زاہد اقبال نے کی۔

نو ماہ کی سماعت کے بعد عدالت نے مجرم کے خلاف تمام الزامات کو درست ثابت ہونے پر بدھ کے روز اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم کو خاتون اور اس کے پیٹ میں پلنے والے بچے کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت اور مقتولہ کے ورثا کو پانچ لاکھ روپیہ معاوضہ ادا کرنے کا حکم سنایا۔

عصمت دری کی کوشش کے الزام میں، جج نے مجرم کو دو لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ دس سال قید کی سزا سنائی جبکہ اسے گھر میں گھسنے کے الزام میں عمر قید کی سزا بھی سنائی۔ مقتول کے ورثاء کو جرمانہ اور معاوضہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مجرم کو مزید چھ ماہ قید بھگتنا ہو گی۔