بریکنگ ممکنہ ایران،امریکہ معاہدے کے خدشے پر اسرائیلی حملے تیز۔تہران کا جنگ بندی تجاویزپرغور

48 گھنٹوں کے اندر تہران کی فاعی صنعت کو زیادہ سے زیادہ تباہ کرنے کے لیے بھرپور کوششوں کے احکامات

               
March 26, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا

 

اسرائیلی فوج نے ایران کے اندر اہم اہداف پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں کیونکہ امریکہ اور تہران کے درمیان مذاکرات شروع ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں اور تل ابیب میں فوجی کارروائیاں جلد رک جانے کا خدشہ پایا جاتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے ملک کے شمال مشرق میں مشہد ایئرپورٹ کے قریب بمباری اور وسطی شہر کاشان کو نشانہ بنانے والے فضائی حملوں کی اطلاع دی ہے۔

امریکی اخبار ’’ نیویارک ٹائمز ‘‘ نے کہا ہے کہ اعلیٰ سطح کے اسرائیلی حکام کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ منگل کو ہدایت دی تھی کہ 48 گھنٹوں کے اندر ایران کی دفاعی صنعت کو زیادہ سے زیادہ تباہ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جائیں۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے 15 نکاتی امریکی منصوبے کے مسودے پر بریفنگ کے بعد کیا گیا ۔

 

مختصر وقت کی ڈیڈ لائن کے ساتھ یہ تیز رفتار نقل و حرکت اسرائیل کے اندر اس تشویش کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی لمحے امن مذاکرات کے آغاز کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اس کے اہم اہداف حاصل ہونے سے پہلے ہی کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔ ان اہداف میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے خطرے کا خاتمہ، تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنا اور ایرانی نظام کے خلاف داخلی تحریک کے لیے حالات سازش بنانا شامل ہے۔

 

اس تناظر میں کنیسٹ کی خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی کے سربراہ بواز بسمتھ نے کہا ہے کہ اگر یہ تینوں اہداف حاصل نہ ہوئے تو جنگ کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔ اگرچہ امریکی منصوبہ اپنی شقوں میں اب بھی عمومی ہے لیکن اس نے اسرائیلی قیادت میں تشویش پیدا کر دی ہے جس کا خیال ہے کہ یہ منصوبہ ایرانی جوہری پروگرام یا تہران کی میزائل صلاحیتوں کو کافی حد تک روکنے کی ضمانت نہیں دیتا۔

 

عرب میڈیاکے مطابق ،حملوں میں تیزی لانے کے احکامات تل ابیب میں اسرائیلی فوجی ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ ایک سکیورٹی اجلاس کے دوران دیے گئے جہاں فضائیہ اور انٹیلی جنس کے سربراہوں سمیت اعلیٰ فوجی کمانڈروں نے ان اہداف کا جائزہ پیش کیا جنہیں اب بھی ایران کے اندر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

 

اسرائیلی دفاعی ذرائع کے مطابق تل ابیب کو خدشہ ہے کہ ممکنہ ایرانی شرائط کی منظوری مذاکرات کے لیے ابتدائی نقطہ ثابت ہو سکتی ہیں اور اس کی خواہش ہے کہ کسی بھی امریکی،ایرانی معاہدے میں اس کے لیے حملے کے اختیارات باقی رہیں۔

 

دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے 15نکاتی منصوبے کی موجودگی یا اسے ایران بھیجنے کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ تردید۔ادھر،ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیج رہا ہے، جس کا اعلیٰ حکام پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔عراقچی نے ٹی وی کے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے مترادف نہیں۔

 

روئٹرز کے مطابق ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار نے بتایا کہ تہران امریکی تجویز پر غور کر رہا ہے، اگرچہ ابتدائی ردعمل منفی رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے اسے مکمل طور پر رد نہیں کیا۔بعض ایرانی حکام نے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ کسی مذاکرات کے امکان کی سختی سے مخالفت کی، لیکن پاکستان کے ذریعے پیش کی گئی 15 نکاتی تجویز پر فوری سرکاری جواب نہ دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران کے بعض حلقے کم از کم اس پر غور کر سکتے ہیں۔

 

پاکستانی سیکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ اسلام آباد ایرانی وزیرِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے اور ابھی تک تہران کی طرف سے رسمی جواب موصول نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات پاکستان یا ترکیہ میں ہو سکتے ہیں۔اس دوران،سرائیل کے تین حکومتی ذرائع نے بتایا کہ کابینہ کی سیکیورٹی کونسل کو اس تجویز سے آگاہ کیا گیا، جس میں ایران کے انتہائی افزادہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنے، ایٹمی افزودگی روکنے، بیلسٹک میزائل پروگرام کی روک تھام اور علاقائی حلیف گروہوں کو مالی امداد بند کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔