حج سیزن کو سیاسی و ذاتی مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ سعودی عرب
بے دخل کیے جانے والوں کی تعداد میں کمی کی شرح 44 فیصد تک پہنچ گئی
پبلک سیفٹی کے ڈائریکٹر اور سعودی حج سکیورٹی فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد البسامی نے کہا ہے کہ سعودی سکیورٹی کا نظام حج سیزن کو ایسی کسی بھی سرگرمی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا جو اسے اس کے شرعی مقاصد سے ہٹا دے۔
انہوں نے کہا کہ حجاج کرام کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کو صرف مناسکِ حج کی ادائیگی کے لیے وقف رکھیں۔ اسی تناظر میں محمد البسامی نے سکیورٹی کارروائیوں سے متعلق اعداد و شمار کا انکشاف کیا اور بتایا کہ حج سیزن کے دوران خلاف ورزیوں کے ارتکاب کی وجہ سے خلاف ورزی کرنے والوں، گرفتار ہونے والوں اور بے دخل کیے جانے والوں کی تعداد میں کمی کی شرح 44 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔سکیورٹی فورسز کی جانب سے بغیر اجازت نامے کے حج ادا کرنے کے خواہش مندوں کے خلاف سخت کارروائی کے نتیجے میں حج کے فرضی یا جعلی گروپوں کی تعداد میں کمی کی شرح 12 فیصد رہی۔
غیر مجاز ویزا رکھنے والے اور مقیم افراد کی جانب سے قانون شکنی کی شرح میں 93 فیصد کمی دیکھی گئی۔اسی سلسلے میں سعودی حج سکیورٹی فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد البسامی نے بتایا کہ سعودی عرب کی سطح پر 217 سے زائد فرضی حج گروپ پکڑے گئے ہیں۔ 3 لاکھ 66 ہزار سے زیادہ ایسے مقیم افراد کو واپس بھیجا گیا جنہوں نے بغیر اجازت نامے کے مکہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔
انہوں نے مکہ مکرمہ میں داخلے کا اجازت نامہ نہ رکھنے والی 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد گاڑیوں کو واپس بھیجے جانے کا بھی انکشاف کیا اور ساتھ ہی اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ سکیورٹی نظام کے تحت ان تقریباً 2221 افراد کو سزا دی جا رہی ہے جنہوں نے وزیٹر ویزا کے لیے درخواست دی تھی اور ان کے حاملین حج سیزن کے دوران مکہ چلے گئے تھے، اس کے علاوہ 3 لاکھ 66 ہزار سے زیادہ ایسے مقیم افراد کو واپس بھیجا گیا جنہوں نے بغیر اجازت نامے کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔