ایرن پرحملوں کے لیے تعینات دونوں طاقت ور امریکی بیڑے محاذسے کیوں پسپا ہوئے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف دو جہازوں کا معاملہ نہیں، بلکہ امریکی بحری حکمت عملی پر سوالات اٹھا رہا ہے
ایران کے خلاف کارروائی کے لیے بھیجے گئےامریکی بحریہ کے دونوں طاقتور ترین جنگی جہاز محاذ سے غائب ہو چکے ہیں۔
امریکی بحریہ کا سب سے مہنگا جنگی جہازیو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ، جس کی لاگت13عشاریہ 2ارب ڈالر ہے، ایک لانڈری روم میں آگ لگنے کے بعد واپس لوٹ گیا۔ اب اس جہاز کو کریٹ (یونان) کے سمندری اڈے پر مرمت کے لیے بھیجا جا رہا ہے، جس میں 14ماہ لگ سکتے ہیں۔
پینٹاگون کی ایک رپورٹ میں سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ جہاز کا جیٹ لانچ سسٹم (ای ایم اے ایل ایس)، ریڈار، ہتھیاروں کی ایلیویٹرز (جو بم اور میزائلوں کو فلائیٹ ڈیک تک لے جاتے ہیں) ناقابل بھروسہ قرار دیے گئے۔ پینٹاگون کے ٹیسٹرز کا کہنا ہے کہ جہاز پر دشمن کے حملے کی صورت میں اس کی لڑاکا صلاحیت کا مکمل اندازہ لگانے کے لیے کافی ڈیٹا ہی نہیں ۔ ان سسٹمز کو مرمت کرنے کی تجاویز موجود ہیں لیکن زیادہ تر فنڈنگ نہیں ملی۔ جہاز میں بستر بھی کم ہیں، کم از کم 159اضافی بستر درکار ہیں۔
یہ جہاز امریکی بحریہ کا فلیگ شپ ہے، جو کئی سال کی محت کے بعد تیار ہوا اور اب جنگی علاقے میں بھیجا گیا جہاں اس کے اہم نظام ابھی تک لڑائی کے لیے مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں۔
دوسری طرف یو ایس ایس ابراہم لنکن کے بارے میں ایران نے بار بار دعویٰ کیا کہ اس کے میزائلوں نے بیڑے کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ امریکہ نے اسے پروپیگنڈا قرار دیا، لیکن یہ طے ہے کہ لنکن ایرانی ساحل سے350کلومیٹر کے فاصلے پر تھا، جو اب1100کلومیٹر سے زیادہ ہو گیا ہے۔ یعنی اب یہ ایرانی اینٹی شپ میزائلوں کی رینج سے باہر ہے۔
پینٹاگون اسے حکمت عملی کے تحت دوبارہ پوزیشننگ کہہ رہا ہے، جبکہ اب دونوں کیریئرز محاذ سے دور کھڑے ہیں۔ فورڈ تقریباً11ماہ سے سمندر میں تھا، جو جدید دور میں طویل ترین تعیناتیوں میں سے ایک ہے۔
ایک طرف ایران کے تقریباً 2ہزارڈالر کے میزائل، دوسری طرف اربوں ڈالر کے کیریئرز۔ یہ نہ صرف فوجی بلکہ معاشی عدم توازن کی مثال ہے۔ 80سال سے امریکی طاقت کا نشان سمجھے جانے والے طیارہ بردار جہاز اب ہائپرسونک میزائلوں اور جدید خطرات کے سامنے کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف دو جہازوں کا معاملہ نہیں، بلکہ امریکی بحری حکمت عملی پر سوالات اٹھا رہا ہے۔ کیا امریکہ کی بحریہ میں کیریئرز کا دور اب ختم ہو رہا ہے؟