توانائی بحران کے باعث آسٹریلیا نے ایندھن ذخائر کےاستعمال میں توسیع کردی
ایران جنگ کے اثرات، آسٹریلیا نے پٹرول و ڈیزل ذخائر ستمبر تک کھول دیے
آسٹریلیا نے توانائی کے بحران کے پیشِ نظر ملکی ایندھن کے ذخائر سے پٹرول اور ڈیزل کے اجراء کی پالیسی میں توسیع کر دی ہے۔ وزیرِ توانائی کرس بوون نے کہا کہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی فراہمی پر پڑنے والے اثرات سے نمٹنے کے لیے یہ اقدام جاری رکھا جائے گا۔
کرس بوون نے کہا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ستمبر تک ایندھن کے ذخائر کے استعمال میں لچک برقرار رکھنا بہتر ہوگا۔
ان کے مطابق ہفتے کے روز تک آسٹریلیا کے پاس 48 دن کے لیے پٹرول، 36 دن کے لیے ڈیزل اور 30 دن کے لیے جیٹ فیول کے ذخائر موجود تھے، جو فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح ہیں۔
انہوں نے ان ذخائر کو بین الاقوامی سپلائی چین میں شدید دباؤ کے باوجود “غیر معمولی” قرار دیا۔
ملکی ذخائر کے استعمال کی پالیسی پہلی بار مارچ میں متعارف کرائی گئی تھی تاکہ بالخصوص دور دراز علاقوں میں ایندھن کی قلت پر قابو پایا جا سکے۔ یہ پالیسی جولائی میں ختم ہونا تھی، تاہم اب اس میں ستمبر تک توسیع کر دی گئی ہے۔