ٹرمپ ایران پر حملے کے لیے اس وجہ سے راضی ہوئے۔خوف ناک انکشاف

ہر صدر کے دور میںاسرائیلیوں نے یہی درخواست کی۔سب نے انکارکیا۔ جان کیریاکو

               
March 26, 2026 · امت خاص

سابق سی آئی اے افسر جان کیریاکو

 

سابق سی آئی اے آفیسر اور وسل بلوئر جان کیریاکو (John Kiriakou) نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے دہائیوں تک امریکہ پر ایران کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ ڈالا اور بالآخر واشنگٹن کو براہ راست دھمکی دے کراپنامطالبہ منوایا۔

 

ایک پوڈکاسٹ میں جان کیریاکونے بتایا کہ ہر صدر کے دور میںاسرائیلیوں نے ہم سے ایران پر بمباری کرنے کی درخواست کی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اسرائیل کا وزیراعظم کون ہے، ان کا ایک ہی مطالبہ ہوتا ،آپ کو ایران پر بمباری کرنی ہوگی۔اور ہر ایک صدر نے انکار کیا ۔ہم نے کبھی ایران پر بمباری نہیں کرنی تھی کیونکہ ہمارا موقف یہ تھا کہ یہ تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر بمباری کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ اسرائیلیوں نے پہلی بار یہ کہا کہ اگر آپ نے ایران کے ان گہرے بنکرز کو تباہ کرنے کے لیے بمباری نہ کی، تو ہم ایٹمی ہتھیار استعمال کریں گے۔انہوں نے اس سے پہلے کبھی ایسی دھمکی نہیں دی تھی۔ چنانچہ ٹرمپ نے سوچا کہ ایران پر بمباری کرنا شاید ہمیں تیسری عالمی جنگ سے بچا لے، اگر یہ اقدام اسرائیلیوں کو ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے سے روک دیتا ہے۔

 

سابق سی آئے اے افسر کے مطابق ،اسرائیل کے پاس یہ ہتھیار طویل عرصے سے ہیں۔ انہوں نے 50 کی دہائی میں ان پر کام شروع کیا اور 60 کی دہائی کے آخر یا 70 کی دہائی کے اوائل میں انہیں حاصل کر لیا۔ ایسی معتبر رپورٹس بھی ہیں کہ جب جنوبی افریقہ میں نسل پرست حکومت ختم ہوئی، تو ان کے پاس جو ایٹمی ہتھیار تھے وہ انہوں نے اسرائیلیوں کو دے دیے۔

 

کیریاکو کے مطابق، ایرانی ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے انتہائی درست ہوتے تھے، باوجود اس کے کہ اسرائیل بڑے پیمانے پر جانی نقصان (collateral damage) پہنچانے کے لیے تیار رہتا ہے۔ اسرائیل کی پالیسی یہ ہے کہ اگر وہ آپ کو مارنا چاہتے ہیں اور آپ کسی اپارٹمنٹ بلاک میں ہیں، تو وہ پورے شہر کا وہ بلاک ہی اڑا دیں گے اور2ہزارلوگوں کو مار دیں گے اگر انہیں لگتا ہے کہ وہ اس طرح آپ تک پہنچ سکتے ہیں۔

 

کیریاکو کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر تنقید کو تقریباً ہمیشہ سیاسی طور پر سامی دشمنی (anti-Semitism) کا نام دے دیا جاتا ہے، اور یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جو ملک کے تعلیمی نظام کے ذریعے سکھائی جاتی ہے۔ بہت سے امریکیوں کو یہ یقین دلا دیا گیا ہے کہ اگر آپ نیتن یاہو کے خلاف ہیں یا موجودہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے مخالف ہیں، تو آپ سامی دشمن ہیں۔ انہیں اسکول میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ اسرائیل پر کسی بھی تنقید کو سامی دشمنی کا لیبل لگا دیں تاکہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں، اور لوگ عام طور پر پیچھے ہٹ بھی جاتے ہیں۔