تیل مہنگاہونے سے عرب امارات میں بحران کے اثرات سامنے آنے لگے
ایندھن کی قیمت بڑھنے سے ماہانہ اخراجات میں 200 سے 500 درہم تک کا اضافہ ہو سکتا ہے
تصویر: خلیج ٹائمز
خطے میں جنگ نےتیل کی دولت سے مالامال خلیجی ملک متحدہ عرب امارات کو بحران کا شکار کردیا۔ایسے مناظر سامنے آرہے ہیں جن کے بارے میں کبھی سوچابھی نہیں جاسکتا تھا۔ایک طرف تیل مہنگاہونے سے شہریوںکو مالی دبائو اورشدید مشکلات کا سامناہے۔پیٹرول پمپس پر قطاریں نظر آنے لگی ہیں۔دوسری طرف تنخواہوں میں کٹوتیوں کی بھی خبر ہے۔
اخبار خلیج ٹائمزکے مطابق،ایندھن کی قیمت بڑھنے سے ماہانہ اخراجات میں 200 سے 500 درہم تک کا اضافہ ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے بجٹ اور اخراجات پرنظرثانی کے لیے مجبور ہو گئے ہیں۔ایک شخص نے اخبار کوبتایاکہ 300درہم تک اضافہ بھی کوئی چھوٹی رقم نہیں، یہ یوٹیلٹی بل یابچے کی اسکول فیس کا ایک حصہ ہے۔ پیٹرول کا جو ماہانہ خرچ 1100درہم تھا اب اس کے 1500درہم سے اوپر جانے کی توقع ہے۔
یواے ای کے رہائشیوں کا کہناہے کہ ایندھن کے اخراجات ان کے روزمرہ کے معمولات کا حصہ ہیں۔یہ صرف دفتر آنے جانے کی بات نہیں ۔ اسکول چھوڑنا، خریداری ، سیر و تفریح، ہر چیز کا دارومدار ڈرائیونگ پر ہے۔کرایوں اور کھانے پینے کی لاگت میں اضافے نے پہلے ہی عوام الناس کو مالی مسائل میں دھکیل رکھاہے۔اب ایندھن کی قیمت بڑھنا ایک نیا مسئلہ ہے ۔
حالات کے پیش نظر تجارتی اور کاروباری ادارے بھی منصوبہ بندی میں تبدیلیاں لارہے ہیں۔کمپنیاں اپنے ملازمین کو جمع شدہ چھٹیاں لینے کی ترغیب دے رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ،کچھ شعبے طلب میں تبدیلی یا آپریشنل دباؤ پر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ردعمل دیتے ہیں۔ ایوی ایشن، ریٹیل، لاجسٹکس، اور توانائی سے متعلقہ خدمات جیسے شعبوں میں اکثر مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے دوران ابتدائی تبدیلیاں دیکھی جاتی ہیں۔ ایسے اداروں کے لیے افرادی قوت کی منصوبہ بندی ایک نازک توازن کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ عام طریقوں میں رضاکارانہ طور پر بلا تنخواہ چھٹیوں کے اختیارات دینا، ملازمین کو عارضی طور پر دوسرے منصوبوں پر منتقل کرنا، کام کے اوقات میں تبدیلی لانا، یا موجودہ ٹیموں کے تحفظ کے ساتھ نئی بھرتیوں کی رفتار کو سست کرنا شامل ہے۔ یہ اقدامات اداروں کو افرادی قوت کے استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے قلیل مدتی مالیاتی دباؤ سے نمٹنے کی اجازت دیتے ہیں۔
سب سے زیادہ اثر ہاسپیٹلٹی (ہوٹلنگ) کی صنعت میں دیکھا گیا ہے، جہاں عملے کے ایک مخصوص فیصد سے کہا گیا ہے کہ وہ صورتحال بہتر ہونے تک بلا تنخواہ چھٹیوں پر چلے جائیں۔ دیگر اقدامات میں عملے کی تنخواہوں میں عارضی طور پر 30 فیصد تک کی کٹوتی بھی شامل ہے، جو صورتحال بہتر ہونے تک نافذ رہے گی۔