امریکہ کے لیے نیٹو چھوڑنا کتنا آسان؟ممکنہ منظرنامے کے لیے یورپی تیاریاں شروع
اتحاد کے سیکرٹری جنرل مارک روٹےاگلے ہفتے واشنگٹن کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں
نیٹو کا پرچم
یورپی رہنماؤں اور دفاعی عہدیداروں نے اس منظرنامے سے نمٹنے کے لیے ابتدائی اقدامات شروع کر دیے ہیں جس میں امریکہ اس اتحاد سے نکل سکتا ہے۔اسی تناظر میں ’نیٹو ‘کے سیکرٹری جنرل مارک روٹےاگلے ہفتے واشنگٹن کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جسے اتحاد کی ترجمان نے طویل عرصے سے طے شدہ دورہ قرار دیا ہے۔
تحاد کی ترجمان ایلیسن ہارٹ کا کہنا ہے کہ میں اس بات کی تصدیق کر سکتی ہوں کہ سیکرٹری جنرل اگلے ہفتے واشنگٹن میں ہوں گے اور یہ ان کاطے شدہ دورہ ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بھی اس دورے کی تصدیق کی ہے۔
بدھ کو ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اتحاد کو کاغذی شیر قرار دیاتھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ فوجی اتحاد سے امریکہ کے انخلاء پر غور کر رہے ہیں کیونکہ یورپی رکن ممالک نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اپنے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔
الجزیرہ نے ایک جائزے میں کہا ہے کہ کم ازکم 6نیٹو ملکوں نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکی خواہشات پوری نہیں کیں۔ان میں سپین، اٹلی فرانس ،برطانیہ، یونان اور پولینڈ شامل ہیں۔
یہ اتحاد جس میں یورپی ممالک، امریکہ اور کینیڈا شامل ہیں 1949ء میں سوویت حملے کے خطرے سے نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا تھا اور تب سے یہ مغربی سلامتی کا ضامن رہا ہے۔
ویب سائٹ پولیٹیکو نے یورپی ذرائع کے حوالے سے بتایاہے کہ شمالی اٹلانٹک فوجی اتحاد (نیٹو) کی صورتحال بگڑنے کے بارے میں انتباہات جاری کیے گئے ہیں، جس کی بڑی وجہ اتحاد سے امریکہ کے ممکنہ انخلاکے بڑھتے ہوئے خدشات ہیں۔
ایک یورپی سفارت کار کے مطابق نیٹو تنظیم اس وقت مفلوج ہو چکی ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وہ اجلاس بھی منعقد نہیں کر سکتے۔ یورپی یونین کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اتحاد پہلے ہی ٹوٹ رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یورپ کو فوری طور پر اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس کے مکمل طور پر ختم ہونے کا انتظار نہیں کر سکتے۔
ادھر،برطانوی نشریاتی ادارے نے وائٹ ہائوس کے لیے اپنے نامہ نگار برنڈ ڈیبسمین جونیئرکے حوالے سے بتایاہے کہ گر امریکی صدر واقعی اس فیصلے پر عمل در آمد کرنا چاہیں تو انھیں سنگین قانونی اور پارلیمانی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے ہی کسی امکان کو مد نظر رکھتے ہوئے، 2023 میں کانگریس نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کا واضح مقصد یہ تھا کہ کسی بھی امریکی صدر کو کانگریس کی منظوری کے بغیر یکطرفہ طور پر نیٹو سے امریکہ کو نکالنے سے روکا جا سکے۔
اب امریکہ کو نیٹو سے نکالنے کے لیے یا تو سینیٹ کے دو تہائی ارکان کی منظوری درکار ہو گی یا کانگریس کو کوئی مخصوص قانون منظور کرنا ہو گا۔ یہ مشکل ضرور ہے لیکن ٹرمپ کے لیے نا ممکن نہیں۔تاہم ، دوسری طرف اس حقیقت کو بھی نظر اندازنہیں کیا جاسکتا کہ چند ماہ بعد اہم وسط مدتی انتخابات کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ کریں گے۔اس الیکشن سے پہلے صدر کی مقبولیت تیزی سے گرتی جا رہی ہے۔