غلط اندازے اور کامیاب سیکنڈسٹرائیک۔زیرزمین ایرانی میزائل سٹیزنے کیسے جنگ کارخ بدلا؟
تہران کی حکمت عملی شروع سے ہی جیتنے پر نہیں بلکہ مخالفین کو تھکا دینے پر مبنی ہے۔ ماہرین
امریکی اسرائیل حملوں کے جواب میں ایران نے بھی میزائل داغ دیے
28فروری کو جب امریکہ اوراسرائیل نے شدید فضائی حملوں سے ایران پر جنگ مسلط کی توپہلے ہی ہلے میں اعلیٰ ترین رہنما سید علی خامنائی نشانہ بن گئے۔ بعد میں مزید کئی اہم اہداف بھی حاصل ہوئے۔ ڈاکٹرعلی لاریجانی کی موت اس کا ثبوت ہے۔ لیکن لڑائی ایک ماہ کی حدپارکرچکی ہے اور اب یہ بات واضح ہے کہ تہران اس جنگ کا رخ بدلنے میں کامیاب رہا۔
صدر ٹرمپ کے قوم سے خطاب میں ایک بات واضح ہے کہ یہ جنگ ابھی مزید جاری رہے گی۔اس خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے نیٹو میں امریکہ کے سابق سفیر آئیوو ڈالڈر نے کہا کہ ٹرمپ کے خطاب نے جنگ کے مقاصد پر شکوک پیدا کر دیے ہیں اور کئی اہم سوالات کے جواب نہیں دیے گئے، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر، ٹرمپ کے مطابق، ایران کی جوہری صلاحیت، بحریہ اور میزائل تباہ کر دیے گئے ہیں تو امریکہ اب بھی ایران میں فوجی کارروائی کیوں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ابتدائی بھاری نقصانات کے باوجود ایران اب بھی بھرپور انداز میں جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کی ردعمل دینے کی صلاحیت برقرارہے۔ یہ کامیاب ترین سیکنڈسٹرائیک حکمت عملی کہلاسکتی ہے۔
ایران نے اپنے ہتھیار اور قیادت اس وقت پورے ملک میں تقسیم کی ہوئی۔ اس نے کمانڈرز اور اہلکاروں کو فیصلے لینے میں خود مختاری دی ہے۔ اور بظاہر یہ منصوبہ کامیاب رہا کہ اعلیٰ قیادت نہ ہونے کے باوجود بھی وہ اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔خاص طورپر میزائل سٹیز نے اس پورے معاملے میں اہم کردار اداکیا ہے۔ زیرزمین قائم اس کمانڈاینڈکنٹرول آپریشن روم سیٹ اپ نے سیکنڈ سٹرائیک لائحہ عمل کی کامیابی کو ممکن بنایاہے۔اسی نظام نے کسی حدتک جنگ کا پانسہ پلٹا۔
بین الاقوامی سٹریٹجک اُمور کے ماہر ہیپیمون جیکب کے مطابق جنگ کے آغاز میں امریکہ اور اسرائیل نے جن خاص اُمور سے متعلق حکمت عملی ترتیب دی تھی، اب بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اُن میں سے بہت سی چیزوں کا صحیح اندازہ نہیں لگایا گیا تھا۔
ابتدائی طور پر یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی اپنی دھمکی پر عمل نہیں کرے گا کیونکہ اس سے اس کے تجارتی مفادات بھی بُری طرح متاثر ہوں گے۔ لیکن ایران نے آبنائے ہرمز کو ناصرف بند کیا بلکہ اب تک کامیابی سے اس کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔جیکب کے مطابق، اپنے اعلیٰ رہنماؤں اور سینیئر فوجی و سیاسی حکام کو کھونے کے باوجود، ایران جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کی حکمت عملی نے بظاہر عالمی رہنماؤں کے لیے غیرمتوقع اور حیران کُن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ ایران کی حکمت عملی شروع سے ہی جنگ جیتنے پر نہیں بلکہ مخالفین کو تھکا دینے پر مبنی ہے۔بظاہر ایران بھی جنگ کا فوری خاتمہ نہیں چاہتا بلکہ وقت کے ساتھ فوجی، سیاسی اور اقتصادی دباؤ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، تاکہ ناصرف فریق مخالف بلکہ اُن کے اتحادیوں کے لیے بھی اس جنگ کو مزید مہنگا بنایا جائے۔
ماہرین کے مطابق ،خود امریکہ اور اسرائیل نے بھی شائد سوچا نہیں ہو گا کہ ایران اس جنگ کو اتنے لمبے عرصے تک لڑے گا۔ ٹرمپ کا خیال تھا کہ جو کچھ انھوں نے وینزویلا میں کیا، وہ ایران میں بھی وہی کریں گے لیکن جنگ کی ابتدا ہی میں علی خامنہ ای کے قتل نے پورے ایران کو متحد کر دیا۔