’’کوئی ہمارے پائلٹ کو ڈھونڈسکتا ہے؟پلیز؟‘‘۔بچی کھچی امریکی ساکھ’مطلوب‘ہواباز سے وابستہ

اب تک اس بارے میں درست معلومات نہیں کہ امریکی لڑاکا طیارہ کہاں مار گرایا گیا۔برطانوی میڈیا

               
April 4, 2026 · امت خاص

 

امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگستھ نے گذشتہ دنوں دعویٰ کیا تھاکہ امریکہ نے ایران پر اتنی فضائی برتری حاصل کر لی ہے کہ امریکی فضائیہ اب سست رفتاری سے چلنے والے، B-52 بمبار طیارے بغیر کسی تشویش کے ایران کی فضاؤں میں اُڑا سکتی ہے۔

 

پینٹاگان اسی مفروضے کی بنیادپر ایرانی ایٹمی تنصیبات کے خلاف ایک بڑے کمانڈوآپریشن کی تیاری بھی کررہاہے کہ ایران میں فضائی دفاع کا نظام ختم یابہت کمزورہوچکاہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کی فضائی صلاحیتیں ختم کر دی گئی ہیںلیکن امریکی دعوے کے صرف 4 دن بعد ایرانی فوج نے امریکی لڑاکاطیارہ ایف 15 مارگرایا جس کے بعدتباہ شدہ طیارے کے عملے کا ایک رکن ریسکیو کرلیاگیا لیکن دوسرے کی تلاش زور وشورسے جاری ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ،اگر امریکہ سے پہلے ایران اسے ڈھونڈلیتاہے توواشنگٹن کا بہت کچھ دائو پر لگ سکتاہے۔ اسے ٹیلی ویژن پر سب کو دیکھنے کے لیے پیش کیا جائے گا،ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے امریکیوں کی پریشانی ویسے ہی بڑھ رہی ہے اور ایسے میں اگر ایران نے پائلٹ کی ویڈیو جاری کی تو اس سے امریکی رائے عامہ پر منفی اثر پڑے گا۔

 

الجزیرہ کو جیو پولیٹیکل تجزیہ کار فلس بینس نے بتایا کہ امریکی لڑاکا طیارے کو مار گرانا اور لاپتہ ہوائی جہاز کی تلاش وائٹ ہاؤس کے لیے جنگ کے لیے عوامی حمایت کو برقرار رکھنا مشکل بنا سکتا ہے۔ یہ واقعہ پروپیگنڈے کی مساوات کو بدل دیتا ہے، چاہے اس سے فوجی توازن نہیں بدلتا۔

 

گرایاگیا جیٹ کم رفتار سے پرواز کرنے والا B-52 نہیں بلکہ ایک تیز رفتار لڑاکا طیارہ ہے۔امریکی عسکری ماہرین کاکہناہے کہ ایران کے پاس اینٹی ایئرکرافٹ ہتھیار موجود ہیں اور یہ تصور کہ وہ سب تباہ ہو چکے ہیں، اس پر یقین کرنا مشکل تھا۔امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کا دفاعی نظام کمزور ہونے کے باعث اس کے اخراجات میں کمی آئی ہے، تاہم اندازوں کے مطابق یہ جنگ اب بھی امریکہ کو یومیہ تقریباً 385 ملین ڈالر (38 کروڑ 50 لاکھ ڈالر یا 107 ارب پاکستانی روپے سے زائد) کا بوجھ ڈال رہا ہے۔

 

اب تک اس بارے میں درست معلومات نہیں کہ طیارہ کہاں مار گرایا گیا لیکن ایرانی سرکاری میڈیا میں دو صوبوں کا بار بار ذکر سامنے آیا ہے: کہگیلویہ و بویراحمد اور خوزستان۔ خوزستان صوبے کے اوپر ایسے ہی ایک مشن کی مصدقہ وڈیو سامنے آئی ہے۔

 

جنوبی صوبے کہگیلویہ و بویراحمد کے نائب گورنر نے کہا ہے کہ امریکی لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے ’وسیع آپریشنز‘ کے باوجود ایف 15 لڑاکا طیارے کے ’لاپتہ پائلٹ‘ کی تلاش ’مکمل قوت‘ کے ساتھ جاری ہیں۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق نائب گورنر کا کہنا ہے کہ پولیس، سکیورٹی فورسز اور مقامی لوگوں کی پائلٹ کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر انھیں لاپتہ پائلٹ کے بارے میں کوئی معلومات ملیں تو حکام سے رابطہ کریں۔

 

ٹرمپ نے کہا ہے کہ تباہ کیے گئے لڑاکا طیارے کی وجہ سے ایران کے ساتھ مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔لیکن اگر امریکی ایئر مین کو حراست میں لے لیا جاتا ہے تو یہ تاثر ملے گا کہ چاہے ایران اس جنگ سے جتنا بھی متاثر ہوا ہے، لیکن وہ اب بھی صدر ٹرمپ کے لیے فوجی اور سیاسی مشکلات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایران جنگ میں امریکہ کی ساکھ اب اس گم شدہ پائلٹ سے وابستہ ہے۔

 

ماہرین کے مطابق لاپتہ ائرمین کی تلاش وقت کے اعتبار سے ایک حساس نوعیت کا معاملہ ہے کیونکہ ایران بھی اسی اہلکار کی تلاش میں ہے، امریکی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھی اپنی کارروائی میں مصروف ہیں۔

 

فوجی حکمتِ عملی کے ماہر اور اعلیٰ امریکی سفارتکار جیمز جیفری کا کہنا ہے کہ یہ سب سے خطرناک مشن ہے۔ایسے مشنز عموماً ہیلی کاپٹروں کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں، جنھیں ایندھن فراہم کرنے والے طیاروں اور دیگر فوجی طیاروں کی معاونت حاصل ہوتی ہے جو فضائی حملے کرنے اور علاقے میں گشت کرنے کے لیے موجود رہتے ہیں۔

 

جیمز جیفری کے مطابق یہ فضائیہ کے خصوصی آپریشنز کے اہلکار ہوتے ہیں، جن کی تربیت تقریباً ڈیلٹا فورس اور نیوی سیل ٹیم سِکس کے معیار کی ہوتی ہے، لیکن ان کے پاس طبی صلاحیتیں بھی ہوتی ہیں۔ اگر ذرا سا بھی امکان ہو کہ پائلٹ مل سکتا ہے تو وہ تلاش ترک نہیں کریں گے۔دشمن کے زیرِ کنٹرول علاقے میں مار گرائے جانے والے طیاروں کے پائلٹ اور عملے کو ایسی صورتِ حال کے لیے خصوصی طور پر تربیت دی جاتی ہے۔

 

تھنک ٹینک ڈیفنس پرائرٹیز سے منسلک سینئر فیلو جینیفر کاواناگ نے کہا ہے کہ ان کی اولین ترجیح زندہ رہنا اور گرفتاری سے بچنا ہوتی ہے۔انھیں اس بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ اگر وہ جسمانی طور پر موثرحرکت کرنے کے قابل ہیں اور زخمی ہونے کے باعث قاصر نہ ہوں تو ایجیکشن کی جگہ سے جتنی جلدی ممکن ہو سکے دور چلے جائیں اور خود کو اس طرح چھپائیں کہ وہ محفوظ رہ سکیں۔ انہیں اپنے بچاؤ کی تدابیر سکھائی جاتی ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ عرصے تک بغیر خوراک یا پانی کے گزارا کر سکیں یا مقامی طور پر اپنے لیے ضروری وسائل تلاش کر سکیں۔

 

ایرانی فوج نے جمعہ کو اعلان کیاتھا کہ اس نے خلیج میں امریکہ کا دوسرا جنگی طیارہ اے- 10 تھنڈر بولٹ حملہ آور بھی مار گرایا ہے، جسے فضائی دفاعی نظام کی فائرنگ سے نشانہ بنایا گیا تھا۔عرب میڈیاکا کہناہے کہ ایران کی جانب سے امریکہ کے دو فوجی طیاروں کو گرایا جانا امریکہ کے لیے ایک انتہائی غیر معمولی حملہ ہے جو گذشتہ 20 سال سے زائد عرصے میں پیش نہیں آیا۔حال ہی میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ تہران کی میزائل اور ڈرون داغنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

 

فضائیہ کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل اور ایف-16 کے سابق فائٹر پائلٹ ہیوسٹن کینٹ ویل نے کہا کہ لڑائی کے دوران گرایا جانے والا آخری امریکی جنگی طیارہ اے-10 تھنڈر بولٹ 2 تھا اور یہ 2003 میں امریکہ کے عراق پر حملے کے دوران ہوا تھا۔