منافع کم ٹیکس زیادہ،پیٹرول پمپ چلانا اب ممکن نہ رہا،مالکان پھٹ پڑے
موجودہ حالات میں پیٹرول کی فروخت منافع کے بجائے خسارے کا باعث بن چکی ہے
اسلام آباد :-(افضل شاہ یوسفزئی) آل پالستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن اور پالستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر پیٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز مارجن فوری طور پر بڑھا کر 8 روپے فی لیٹر کریں ورنہ ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کرکے ایندھن کی فراہمی معطل کر دی جائے گی
ڈیلرز کی جانب سے جاری کردہ مارجن رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں پیٹرول کی فروخت منافع کے بجائے خسارے کا باعث بن چکی ہے
رپورٹ کے مطابق ایک اوسط پیٹرول پمپ کو پیٹرول کی فروخت پر تمام اخراجات نکالنے کے بعد 98 پیسے فی لیٹر خالص نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر منافع کم ہو کر صرف 0.92 روپے فی لیٹر رہ گیا ہے، جو کاروبار چلانے کے لیے ناکافی ہے
ڈیلرز کا کہنا ہے کہ فی لیٹر 8.64 روپے کمیشن کا بڑا حصہ مختلف مدات میں کٹوتیوں کی نذر ہو جاتا ہے، جن میں تبخیر اور دیگر نقصانات کی مد میں 1.90 روپے فی لیٹر، ود ہولڈنگ ٹیکس کی صورت میں 1.04 روپے فی لیٹر اور کمپنی یا فرنچائز فیس کی مد میں تقریباً 0.90 روپے فی لیٹر شامل ہیں۔
پی پی ڈی اے قیادت جن میں عبدالسمیع خان اور ہمایوں خان شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں آپریشنل اخراجات میں 300 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے
ان کے مطابق بجلی کے بھاری بلوں اور جنریٹر کے استعمال پر تقریباً ایک روپیہ فی لیٹر خرچ آ رہا ہے، جبکہ ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے بینکوں کو 0.60 سے 0.83 روپے فی لیٹر کمیشن ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ لیبر کی کم از کم اجرت 40 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے جس سے کاروباری لاگت مزید بڑھ گئی ہے۔
ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ اس ورکنگ میں ابھی پراپرٹی ٹیکس، مشینری کی مرمت اور زمین کے کرایے جیسے اہم اخراجات شامل ہی نہیں کیے گئے، جس کے باعث اصل نقصان اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ ایسوسی ایشن نے عندیہ دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے بینک چارجز کے باعث پیٹرول پمپس پر کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی بند کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے ڈیلرز کے مارجن میں مزید کمی واقع ہو رہی ہے۔
ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق فوری طور پر ڈیلرز مارجن میں اضافہ کیا جائے، بصورت دیگر پیٹرول پمپس بند کرنے کا آپشن استعمال کیا جائے گا، جس سے ملک میں ایندھن کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔