پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کی سائیکل کہاں گئی؟

۔یہ پیٹرول قیمتوں میں اضافے کیخلاف ان کا احتجاج تھا۔ لیکن منگل کو جب وہ اسمبلی آئے تو ان کی سائیکل غائب تھی

               
April 7, 2026 · قومی

پی ٹی آئی کے ایم این اے اقبال آفریدی ایک روز قبل سائیکل پر پارلیمنٹ پہنچے۔یہ پیٹرول قیمتوں میں اضافے کیخلاف ان کا احتجاج تھا۔ لیکن منگل کو جب وہ اسمبلی آئے تو ان کی سائیکل غائب تھی۔امت ڈیجٹل نے اس موقع پر رکن اسمبلی سے ان کی سائیکل کے بارے میں پوچھا اور یہ بھی کہ اس کی قیمت کیا تھی؟

پی ٹی آئی کے ایم این اے اقبال آفریدی ایک روز قبل سائیکل پر پارلیمنٹ پہنچے۔یہ پیٹرول قیمتوں میں اضافے کیخلاف ان کا احتجاج تھا۔ لیکن منگل کو جب وہ اسمبلی آئے تو ان کی سائیکل غائب تھی۔امت ڈیجٹل نے اس موقع پر رکن اسمبلی سے ان کی سائیکل کے بارے میں پوچھا اور یہ بھی کہ اس کی قیمت کیا تھی؟
اقبال آفریدی کا کہنا تھا کہ بارش کی وجہ سے آج میں سائیکل پر نہیں آیا ۔بارش کی وجہ سے گاڑی میں آیا ہوں۔ اس ایونٹ کا مقصد صرف یہ تھا کہ حکمرانوں کو یہ بتانا تھا کہ جب یہاں پر جنگ نہیں ہے تو آ پ کہہ رہے ہیں کہ 29 دن کا سٹاک موجود ہے۔اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ہرمز بھی ہمارے لیے کھلی ہے ۔بیس بیس ٹینکر نکل کر آ رہے ہیں۔
تو کونسی لاجک پر ہمارے یہ پٹرول مہنگے کررہے ہیں۔ تو اس وجہ سےاحتجاجاً سائیکل پر بھی یہاں آگیا۔میں دوبارہ بھی آئوں گا ۔ پھر بھی احتجاجی جاری سلسلہ شروع کروں گا ۔حکومت کے پاس جو شارٹ فال ہے اس کو پورا کرنے کیلئے یہ ڈرامے کررہے ہیں۔ عوام پر بوجھ ڈال رہے ہیں۔
میںقانون ساز اسمبلی کا ممبر ہوں۔ میری سائیکل ضبط نہیں کی گئی ہے۔
میں جس سائیکل پر آیا ہوں اس کی قیمت 27 سے 28ہزار روپے ہے۔یہ قربانی میں نے عوام کیلئے دی ہے تا کہ حکمرانوں کو پتہ چل سکے کے ابھی سائیکل پر لوگوں نے آنا ہے۔یہ ان کے چولہے پر اثر پڑے گا یہ ان کی خوردونوش ایشیاء پر پڑے گا۔یہ پٹرول، ڈیزل صرف گاڑیوں پر اثر نہیں بلکہ سب چیزوں پراثر پڑھ رہا ہے۔ غریب بندہ اپنے گھر کے بجلی کے بل پے نہیںکر سکتا ۔گھر کا کرایا پے نہیں کر سکتا۔ضروری تو نہیں وہ سائیکل لیں۔وہ پبلک ٹرانسپورٹ پر جب جائیں تو تب اس کا کرایا بڑھے گا ۔ان کا اصل مقصد صرف اور صرف مہنگائی ہے۔بوجھ جو پڑے گا وہ عوام پر پڑے گا۔بڑے بڑے لوگوں پر نہیں پڑے گا۔
عوام کو معلوم ہونا چاہیے ۔
ایک طرف کفایت شعاری کی باتیں کی جا رہی ہیں تو دوسری طرف لمبی لمبی گاڑیاں اور جہاز خریدے جا رہے ہیں
8 بجے دکانیں بند کرنے کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ سب ڈرامے ہیں۔یہ وہ کفایت شعاری کی باتیں ہیں۔یہ کہتے ہیں ہم عوام کے ساتھ بہت سنسیئرہیں بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے ۔اخراجات کم کرنا چاہتے ہیں ۔لیکن یہ جہاز کیوں خرید رہے ہیں جہاز کی بات کریں۔ملک میں تو کوئی نظام ہی نہیں ہے۔ہرچیز مفلوج ہے۔ کرسی مفلوج ہے۔جب کفایت شعاری کی باتیں آئیں گی تو تبآئے گی تو تب جو ہے انہوں نے اپنے اخراجات پر کٹ لگانا ہے