’اہم گھنٹے‘شروع ہونے کا وقت قریب۔10 نکات بمقابلہ 15اور مذاکراتی ٹیمیں
وسیع تصفیے تک پہنچنے کے لیے اہم ترین مذاکرات ہفتہ 11 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے
جے ڈی وینس ، باقرقالیباف
ایران کی جنگ بندی کو وسیع تصفیے اور مستقل حل میں تبدیل کرنے کے لیے اہم ترین مذاکرات ہفتہ 11 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے۔ خطے میں قیام امن کے لیے ’اہم گھنٹے ‘،باقاعدہ مذاکراتی نشست کے ساتھ ہی شروع ہوجائیں گے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بدھ کو تصدیق کی تھی کہ ایران کا 10 نکاتی منصوبہ مذاکرات کی بنیاد بنے گا۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو ایران کی طرف سے ’10 نکاتی تجاویز‘ موصول ہوئی ہیں جو ’قابلِ عمل‘ ہیں اور ماضی کے تمام متنازع نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس منصوبے میں آبنائے ہرمز کی گزرگاہ پر ایران کے کنٹرول، ایران اور اس کی علاقائی پراکسی فورسز پر حملوں کو روکنا، امریکی افواج کی خطے سے واپسی، ہرجانے کی ادائیگی، پابندیوں کا خاتمہ، اثاثوں کو غیر منجمد کرنا، اور کسی امن معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے اقوامِ متحدہ کی قرارداد شامل ہے۔
ایرانی سفارتی ذرائع کاکہناہےکہ ان دس نکات میں آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو قبول کرنا، افزودگی کی اجازت دینا، اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی شامل ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کے ثالثی اقدامات پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے ایران کی 10 نکاتی تجویز کو مستقبل کے مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کر لیا ہے اور ایران کی مسلح افواج ’دفاعی کارروائیاں روک دیں گی‘ تاکہ مذاکرات مکمل ہو سکیں۔عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ایران نے امریکہ کی 15 نکاتی تجاویز وصول کر لی ہیں اور تیکنیکی حدود میں رہتے ہوئے آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے گا۔
15 نکاتی امریکی منصوبے میں ایران کا جوہری ہتھیار نہ بنانے کا عہد، اپنے اعلیٰ افزودہ یورینیم تک رسائی دینا، تہران کی دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنا، علاقائی پراکسی گروپوں کو ختم کرنا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا شامل ہے۔
ایرانی حکومت نے قبل ازیں 15 نکاتی منصوبے کو ’غیر حقیقی اور غیر معقول‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔
امریکی مذاکراتی وفد کی قیادت متوقع طورپر نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔ ماہرین کے مطابق، وینس اپنے ماضی کے تجربات کے سبب ایران کے لیے قابلِ قبول ہیں۔حالیہ تصادم کے دوران امریکہ سے آنے والےزیادہ تر بیانات سکریٹری خارجہ مارکو روبیو، سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے آتے رہے جو کہ بہت جارحانہ تھے۔اسی لیے جے ڈی وینس اس صورتحال میں ان مذاکرات کے لیے مناسب شخصیت ہیں۔
ڈائریکٹر نیو لائنز انسٹٹیوٹ ڈاکٹر کامران بخاری بھی سمجھتے ہیں کہ اس تنازع کے دوران صدر ٹرمپ سمیت دیگر امریکی عہدیداروں کی جانب سے سخت بیانات آتے تھے لیکن جے ڈی وینس اس دوران ایک ایک گُڈ کاپ تھے۔
امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ 68 سالہ سٹیو وٹکوف کے حامی اُنھیں سیدھی بات کرنے والا مذاکرات کار قرار دیتے ہیں، جو پیچیدہ اور انتہائی مشکل معاملات میں سے بھی کوئی راستہ نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ٹرمپ کے داماد جیرڈکشنرمشرق وسطی کے معاملات پر کئی برسوں سے متحرک ہیں۔ابراہم معاہدے میں بھی وہ پیش پیش تھے، جس کی وجہ سے متحدہ عرب امارات سمیت مختلف عرب ریاستوں نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے تھے۔
ایرانی مذاکرات کاری کی سرکردگی 64 سالہ قالیباف کریں گے ۔ انہوں نے اس جنگ کے دوران بار بار ایران کے دشمنوں کو خبردار کیا کہ اپنی سرزمین کے دفاع کا عزم نہ آزمایاجائے اور وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرمسلسل حملوں کی دھمکی بھی دیتے رہے تاہم امریکی میڈیا ادارے پولیٹیکو کے مطابق امریکی حکام انھیں ایک قابلِ عمل شراکت دار کے طور پر دیکھتے رہے ہیں۔
ایرانی تجزیہ کار کے مطابق تہران اس وقت جس نازک موڑ پر ہے باقر قالیباف کی سیاسی حیثیت مزید مضبوط ہو سکتی ہے کیونکہ وہ جنگ کے تسلسل کی نگرانی اور سینیئر فوجی کمانڈرز اور ریاستی طاقت کے تینوں ستونوں کے سربراہان کے درمیان رابطہ کاری کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایران کی طرف سے مذاکرات کے لیے محمد باقر قالیباف کی آمد کو ڈیاکن یونیورسٹی آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے محقق زاہد شہاب احمد ایک سٹریٹجک قدم سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران نے ایک ایسی شخصیت کا انتخاب کیا ہے جو نہ صرف سابق فوجی کمانڈر بلکہ پارلیمنٹ میں بھی مرکزی کردار رکھتے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ محمد باقر قالیباف ایک اہم شخصیت ہیں، کیونکہ وہ نہ صرف پاسدارانِ انقلاب سے قریب ہیں بلکہ سیاسی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔تہران میں طاقت کا اصل سر چشمہ پاسدارانِ انقلاب ہے اور محمد باقر قالیباف ان کا سیاسی چہرہ ہیں۔ امریکہ کو بھی ایک ایسی قدامت پسند شخصیت کی ضرورت تھی، جن کی ملک میں ساکھ بھی بہتر ہو اور ان کا دستخط کوئی معنی رکھتا ہو۔
توقع ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اسلام آباد آ سکتے ہیں۔
ایرانی ٹیم کے دوسرے ممکنہ رکن وزیرِ خارجہ عباس عراقچی پانچ ہفتے سے زیادہ جاری رہنے والی لڑائی کے دوران دنیا کے لیے ایران سے رابطے کا اہم ترین ذریعہ ثابت ہوئے۔مغربی حلقوں میں وہ ایک نرم گو مگر سخت گیر مذاکرات کے طور پر جانے جاتے ہیں۔موجودہ تنازع کے دوران وہ دنیا میں ایران کے لیے ایک اہم آواز بن کر سامنے آئے۔
عراقچی اس مذاکراتی ٹیم کا حصہ تھے جس نے 2015 میں امریکہ سے جوہری معاہدہ کیاتھا۔