امریکی ایوانِ نمائندگان میں ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش ناکام

قرارداد پیش نہ ہو سکی، اگلے ہفتے کانگریس کی واپسی پر نئے سرے سے ووٹنگ کے لیے دباؤ ڈالیں گے ، ڈیمو کریٹس

               
فائل فوٹو

فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی جانب سے ایران کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش ایک بار پھر ریپبلکنز نے ناکام بنا دی۔

جمعرات کے روز ڈیموکریٹ اراکین اپنی دو ہفتوں کی طے شدہ تعطیلات ختم کر کے خصوصی طور پر واشنگٹن واپس پہنچے تاکہ جنگی اختیارات کی قرارداد (War Powers Resolution) پر ووٹنگ کرائی جا سکے۔ تاہم، سیشن کی صدارت کرنے والے ریپبلکن قانون ساز نے ڈیموکریٹس کو بولنے کا موقع دیے بغیر ہی اجلاس ختم کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے باعث قرارداد پیش نہ ہو سکی۔

ڈیموکریٹ کانگریس وومن ڈیبورا روس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر ریپبلکنز کے اس اقدام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانیوں کے خلاف جنگی جرائم کی ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد، ڈیموکریٹس نے ایک بار پھر ‘وار پاورز ریزولیوشن’ کے ذریعے اس تنازع کو روکنے کی کوشش کی، لیکن ریپبلکنز نے اسے بلاک کر دیا۔ کانگریس کی مداخلت کے بغیر ٹرمپ کسی جوابدہی یا حتمی نتیجے کے بغیر اس جنگ کو جاری رکھیں گے۔

ایوان میں ناکامی کے بعد اب سینیٹ کے ڈیموکریٹس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے کانگریس کی واپسی پر اس معاملے پر نئے سرے سے ووٹنگ کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔ ڈیموکریٹس کا موقف ہے کہ صدر ٹرمپ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھا کر ملک کو ایک غیر ضروری جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت بیانات دیے، جنہیں ڈیموکریٹس بین الاقوامی قوانین اور امریکی آئین کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔