مذاکرات کے دوران ایک بڑا دھچکا
کمال خرازی پسِ پردہ امریکہ کے ساتھ سیزفائر کیلئے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر رہےتھے
تہران سے ملنے والی خبروں کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر کے مشیرِ خارجہ اور ایران کے سینئر سفارت کار ڈاکٹر کمال خرازی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں۔
وہ چند روز قبل تہران میں اپنی رہائش گاہ پر ہونے والی اسرائیلی بمباری میں شدید زخمی ہوئے تھے، جس میں ان کی اہلیہ موقع پر ہی شہید ہوگئی تھیں۔
ڈاکٹر کمال خرازی کی وفات ایک ایسے نازک وقت پر ہوئی ہے، جب وہ پسِ پردہ امریکہ کے ساتھ سیزفائر کے لیے جاری مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے اور ان کا شہید ہونا خطے میں قیامِ امن کی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
کمال خرازی کا سفارتی سفر ایران کے اسلامی انقلاب کی آغاز سے جڑا ہوا ہے، خاص طور پر 1978 میں انقلاب سے ٹھیک پہلے انہوں نے امام خمینی کے خصوصی ایلچی کے طور پر لاہور کا ایک تاریخی دورہ کیا تھا۔
ڈاکٹر کمال خرازی نے اپنی طویل زندگی میں ایران کے وزیرِ خارجہ اور اقوامِ متحدہ میں سفیر جیسے اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور وہ تاحال اسٹریٹجک کونسل برائے خارجہ تعلقات کے سربراہ کے طور پر ایرانی پالیسی سازی کا اہم ستون تھے۔
ان کی شہادت نے نہ صرف ایران بلکہ پاکستان کے ان حلقوں کو بھی سوگوار کر دیا ہے جو انہیں 1978 کے اس تاریخی مشن کے حوالے سے ایک نڈر انقلابی سفارت کار کے طور پر یاد رکھتے ہیں۔