پاکستان کی سفارتی کوششوں سے جواری ساڑھے 3 ٹریلین ڈالر جیت گئے
آخری لمحات میں سیز فائر کے امکانات کو ناممکن سے 100 فیصد تک پہنچا دیاتھا
تصویر: کینییڈین افیئرز
7 اپریل کو دنیا ٹرمپ کے الٹی میٹم کی طرف بڑھ رہی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایک پوری تہذیب آج رات مر جائے گی۔ دوپہر کے وسط تک، پولی مارکیٹ نے سیز فائر کے لیے 5 فیصد سے بھی کم امکان بتایا تھا لیکن پھر آخری لمحات میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں سفارتی سرگرمیوں کے ایک طوفان نے سیز فائر کے امکانات کو ناممکن سے 100 فیصد تک پہنچا دیا۔ اس میں امریکہ اور ایران کی قیادت دونوں نے عوامی طور پر پاکستان کے اہم کردار کو تسلیم کیا۔
سیز فائر کے امکان میں قریب صفر سے مکمل یقین تک ہونے والی اس تیز تبدیلی کی بدولت ہم پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کی مارکیٹ ویلیو کا صاف تخمینہ لگا سکتے ہیں۔ سیز فائر اعلان سے امریکی اسٹاک مارکیٹ انڈیکس میں تقریباً 3فیصد اضافہ ہوا۔ دنیا بھر میں ردعمل بھی اسی طرح کا تھا۔
گلوبل مارکیٹس تقریباً 125 ٹریلین ڈالر کی ہیں، لہٰذ3 فیصد کا اضافہ دنیا کے لیے3اعشاریہ 6ٹریلین ڈالر کا فائدہ ہے یعنی 3ہزار600 ارب ڈالر۔ پاکستان نے اپنے جی ڈی پی سے 10 گنا زیادہ پیسہ کمانے میں دنیاکو مدد دی۔
پاکستان کا جی ڈی پی 360 سے 410 ارب ڈالر تک ہے۔
ایسوسی ایٹڈپریس کے مطابق سیزفائر کا اعلان ہونے سے چند گھنٹے پہلے بنائے گئے کم ازکم 50 نئے اکائونٹس نے بڑی بازی کھیلی اور کامیاب ہوئے۔اے پی نے تجزیئے میں کہا ہے کہ یہ صورت حال خفیہ معلومات (insider information) یا بہت اچھی پیش گوئی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
یاہوفنانس کے مطابق،نئے والٹس کی طرف سے لگائی گئی پہلی شرطیں کامیاب ہوئیں۔ ایک صارف نے2لاکھ ڈالر کا منافع کمایا۔ایک اور والٹ،نے سوالاکھ ڈالر سے زیادہ کا فائدہ اٹھایا۔تیسرے والٹ نے، جو ٹرمپ کے پو اعلان سے صرف رہ منٹ پہلے بنایا گیا تھا، تقریباً 48 ہزار500 ڈالر منافع کمایا۔
ان واقعات نے ٹرمپ انتظامیہ کے اہل کاروں یا امریکی حکوومت کے دیگر ملازمین کی طرف سے ممکنہ اندرونی تجارت یعنی انسائیڈرٹریڈنگ کے شبہات پیداکردیئےہیں۔