نیتن یاہو نے اسپین کو غزہ جنگ بندی رابطہ مرکز سے نکال دیا
اسپین نے ہمارے ہیروز، آئی ڈی ایف (IDF) کے فوجیوں کی توہین کی ہے، جو دنیا کی اخلاقی ترین فوج کے سپاہی ہیں،نیتن یاہو
فائل فوٹو
تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسپین کو اس ‘سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر’ سے بے دخل کرنے کا اعلان کیا ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت غزہ میں جنگ بندی کی بنیاد کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔
اسرائیل کا یہ سخت فیصلہ اسپین کی جانب سے اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ، غزہ اور مغربی کنارے کی پالیسیوں، اور لبنان میں جاری شدید بمباری اور زمینی حملوں پر کی جانے والی مسلسل تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیل ان لوگوں کے سامنے خاموش نہیں رہے گا جو ہم پر حملہ کرتے ہیں۔ اسپین نے ہمارے ہیروز، آئی ڈی ایف (IDF) کے فوجیوں کی توہین کی ہے، جو دنیا کی اخلاقی ترین فوج کے سپاہی ہیں۔
Prime Minister Benjamin Netanyahu:
“Israel will not remain silent in the face of those who attack us.
Spain has defamed our heroes, the soldiers of the IDF, the soldiers of the most moral army in the world.
1/4 pic.twitter.com/c95fTDNXkW
— Prime Minister of Israel (@IsraeliPM) April 10, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ “میں نے آج ‘کریات گت’ میں واقع کوآرڈینیشن سینٹر سے اسپین کے نمائندوں کو ہٹانے کی ہدایت دی ہے کیونکہ اسپین نے بارہا اسرائیل کے خلاف کھڑے ہونے کا انتخاب کیا ہے۔ میں اس منافقت اور دشمنی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔
اسپین نے لبنان پر اسرائیلی حملوں اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اسپین کی حکومت غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے اقدامات کو بین الاقوامی فورمز پر تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے۔
اسپین کے حالیہ بیانات کو اسرائیل نے اپنی خودمختاری اور فوج کے وقار پر حملہ قرار دیا ہے۔