ایران نے مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور اثاثوں کی بحالی کی شرط رکھ دی
ان دو معاملات کے حل ہونے تک امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی ، ایرانی اسپیکر
فائل فوٹو
تہران : ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا آغاز اس وقت تک ممکن نہیں جب تک دو بنیادی شرائط پوری نہیں کی جاتیں۔ ان شرائط میں لبنان میں فوری جنگ بندی کا نفاذ اور ایران کے بیرون ملک منجمد اثاثوں کی واپسی شامل ہے۔
ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ان دو معاملات کے حل ہونے تک امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
Two of the measures mutually agreed upon between the parties have yet to be implemented: a ceasefire in Lebanon and the release of Iran’s blocked assets prior to the commencement of negotiations.
These two matters must be fulfilled before negotiations begin.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 10, 2026
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (X) پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں ایرانی اسپیکر نے کہا کہ فریقین کے درمیان باہمی طور پر طے پانے والے اقدامات میں سے دو اہم نکات پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ “لبنان میں جنگ بندی اور مذاکرات کے باقاعدہ آغاز سے قبل ایران کے بلاک شدہ اثاثوں کی واگزاری وہ لازمی اقدامات ہیں جن کا پورا ہونا ناگزیر ہے۔”
ایرانی اسپیکر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور تہران نے اپنی سفارتی ترجیحات کو واضح کرتے ہوئے گیند اب واشنگٹن کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔